خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 668
$2004 668 خطبات مسرور بھی چاہے تو اس کو بھی پتہ نہیں لگتا کہ کس طرح بچا جائے۔کسی نے قرض لیا ہے کہ سود ہے بھی اس میں کہ نہیں ہے۔اور اس شیطانی چکر نے ان سب کو اس طرح گھیر لیا ہے کہ سوائے مومن کے، تقویٰ پر چلنے والے کے اس سے بچنا مشکل ہے۔اور کچھ نہیں اگر کسی نے انفرادی طور پر قرض نہیں بھی لیا ہوا تو ملکوں نے ،حکومتوں نے جو سود پر قرض لئے ہوتے ہیں۔اس نے ہی قوم کے ہر فرد کو زیر بار کیا ہوا ہے۔آخر وہ سود قوم کے پیسے سے ہی اترنا ہے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ اس وجہ سے (جو وجہ میں نے بیان کی ہے) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ﴾ (الروم : 42) کے نظارے نظر آئیں گے۔یعنی ان نالائقیوں ، ان حوسوں، ان چالا کیوں سودی کاروباروں، اور لوگوں کے حقوق غضب کرنے کے طریقوں، اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے کی وجہ سے زمین میں بھی اور سمندر میں بھی فساد ہوگا۔چنانچہ دیکھ لیں دنیا میں آجکل اسی طرح ہو رہا ہے۔عموماً وجوہات یہی ہیں۔لیکن اس زمانے میں مومنوں کو ، زمانے کے امام کے ماننے والوں کو یہ نصیحت ہے کہ جب بھی ایسی صورت ہو، تم نے اصلاح کی کوشش کرنی ہے فریقین میں صلح و صفائی کروانے کی کوشش کرنی ہے۔چاہے وہ گھر یلو لیول (Level) پر میاں، بیوی کے جھگڑے ہوں، چاہے وہ کاروباری جھگڑے ہوں، چاہے وہ جھوٹی انانیت کے جھگڑے ہوں، چاہے قوموں کے قوموں سے جھگڑے ہوں، قوموں کے بارے میں نہیں بلکہ آج کے خطبے میں میں چھوٹے لیول پر ، معاشرے کے لیول پر، اس حوالے سے بات کروں گا۔لیکن اگر قو میں بھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں طریق سکھایا ہے اس کو اپنا لیں تو دنیا کے فساد ختم ہو سکتے ہیں، دنیا کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔تبھی جو امن قائم کرنے والی تنظیمیں ، امن قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔تبھی یو این او (UNO) کامیاب ہو سکتی ہے۔لیکن بہر حال یہ ایک علیحدہ مضمون ہے۔اس وقت میں معاشرے کے لیول کی بات کر رہا ہوں۔اسی کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔