خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 632

632 $2004 خطبات مسرور اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک تم میں باہم میل ملاپ اور محبت نہ ہو۔کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ یہ باہمی محبت تم میں کیوں کر پیدا ہو گی۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپس میں السلام علیکم کو رواج وو(الترغيب والترهيب بحواله بزار) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر یہ بھی بتایا کہ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنے کے موقعے کس طرح پیدا کرنے ہیں۔اور پھر کس طریق سے سلام کرنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ محبت بڑھے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے السلام علیکم کہا۔آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو دس گنا ثواب ملا ہے۔پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔حضور نے سلام کا جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا اسکو بیس گنا ثواب ملا ہے۔پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔آپ نے انہیں الفاظ میں اس کو جواب دیا۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا اس شخص کو میں گنا ثواب ملا ہے۔(ترمذی ابواب الاستئذان في فضل السلام تو دیکھیں اپنے پیارے نبی کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں محبت پیدا کرنے کے لئے کس باریکی میں جا کر طریقے سکھائے ہیں۔ہر دعا جو السلام علیکم کے ساتھ شامل کرتے ہیں وہ سلام کرنے والے کے لئے دس گنا ثواب کا باعث بنتی ہے، دس گنا اضافے ، کے ساتھ ثواب کا باعث بنتی ہے۔اور جب یہ دعا ثواب میں اضافہ کر رہی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے کھاتے صرف اس لئے نہیں بنائے کہ اگلے جہان میں پہنچنے پر ہی دکھائے گا بلکہ وہ اس دنیا میں بھی ایسی دعائیں کرنے والوں کو ، جو دل سے دوسروں کے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں، مزید نیکیاں قائم کرنے کی توفیق دیتا ہے۔اور اس کے اُس بھائی کو بھی ان دعاؤں سے فیضیاب فرماتا ہے جو دعا کرنے والا اس کو دے رہا ہوتا ہے۔اور پھر