خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 631 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 631

631 $2004 خطبات مسرور لیکن جو انقلاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ پیدا نہیں ہوا۔مومن کی جونشانیاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں وہ حاصل نہیں ہوئیں۔جو اعلیٰ معیار حاصل کرنے تھے وہ ابھی حاصل کرنا باقی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کمزوریوں کے ساتھ تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ اسلــمــنــا ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی۔فرمایا یہ کہنے کے بعد تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایمان لائے۔آگے فرماتا ہے کہ وَلَمَّا يَدْخُلِ الايْمَانُ فِي قُلُوْبِكُمْ ﴾ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے وہ تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ایمان تب داخل ہوا ہوا سمجھا جائے گا جب یہ اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔اللہ کی بھی عبادت کرنے والے ہو گے، کوئی نماز بھی چھوڑنے والے نہیں ہو گے اور خدا کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہو گے اور آپس میں انتہائی محبت بھی پیدا کرنے والے ہو گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محبت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ سلام کو رواج دو اور سلام کو رواج دینے کا یہ مطلب ہے کہ جب منہ سے سلام کہو تو اس وقت تمہارے دل سے بھی تمہارے بھائی کے لئے دعائے خیر نکل رہی ہو۔پھر اس بارے میں ایک اور روایت ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں میں عداوت اور حسد کی بیماری بھی پیدا ہو جائے گی جس سے دین کی برکات بھی جاتی رہیں گی اور تمہارے اندر سے دین بالکل نکل جائے گا۔چنانچہ آجکل دیکھ لیں یہی مسلمانوں کا حال ہے۔پس ہم احمدی مسلمان خوش قسمت ہیں کہ زمانے کے امام کی بیعت میں آکر ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اگر اصلاح نہ کی تو پھر بیعت سے ہی کاٹے جائیں گے۔اللہ ہر ایک کو محفوظ رکھے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی بیماری عداوت اور حسد تمہارے اندر بھی گھس آئے گی۔عداوت تو جڑ سے کاٹ دینے والی شئے ہے۔یہ بالوں کو نہیں کاٹتی بلکہ دین کو کاٹ دیتی ہے۔قتسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم جنت میں نہیں جاسکو گے جب تک مومن نہ بنو