خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 633
$2004 633 خطبات مسرور جواب میں ایک دوسرے کو دے رہے ہوتے ہیں۔پھر جب دوسرا بڑھا کر جواب دیتا ہے تو پھر اور زیادہ نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ بھی تو حکم ہے کہ جب کسی کو کوئی خیر لوٹاؤ تو بڑھا کر دو۔اگر کسی کو کوئی چیز نیکیوں میں سے لوٹا ؤ تو بڑھا کر لوٹاؤ۔اگر ایک اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا ہے تو جواب والا وَرَحْمَةُ اللہ ساتھ لگا دیتا ہے یا بَرَكَاتُہ بھی ساتھ لگا دیتا ہے تو وہ اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے اور دینے والا بھی اور جس کومل رہی ہوں اس کو بھی زائد دعائیں مل رہی ہوتی ہیں۔یہاں میں ضمناً حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالی کی اس سلسلہ میں ایک بات ذکر کر دوں۔میں بھی بعض اوقات جان بوجھ کر اسی طرح کرتا ہوں۔ان سے کسی نے سوال کیا تھا کہ زیادہ ثواب تو السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کہنے میں ہے۔آپ صرف السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله کہتے ہیں تو آپ نے جواب دیا تھا کہ میں جان بوجھ کر ایسا کرتا ہوں تا کہ آپ زیادہ بہتر طور پر لوٹ سکیں کیونکہ احسن رنگ میں لوٹانے کا بھی تو حکم ہے۔مجھے کسی بچی نے سوال کیا اس سفر کے دوران بھی کہ آپ کو سب دعا کے لئے کہتے ہیں آپ کسی کو نہیں کہتے۔تو میں نے اس کو کہا تھا کہ میں تو پہلے دن سے آج تک دعا کے لئے کہتا چلا آ رہا ہوں۔ہاں ہر ملنے والے کو انفرادی طور پر نہیں کہتا۔بعضوں کو کہہ بھی دیتا ہوں اور خطوں میں بھی لکھتا ہوں لیکن اجتماعی طور پر عموماً میں دعا کے لئے کہتا رہتا ہوں اور اجتماعی دعائیں لینے کی کوشش کرتا ہوں۔مسجد میں بھی سلام کرتے وقت، اجتماعوں وغیرہ میں بھی۔اس سے ایک تو جو میں نے کہا حضرت خلیفہ المسیح الرابع کا طریق کار تھا اور میں بھی بعض دفعہ کرتا ہوں ،جیسا کہ آپ نے جواب دیا تھا کہ اس لئے مختصر سلام کرتے ہیں کہ جواب دینے والے کو زیادہ ثواب ہو۔ایک تو یہ ہے کہ اس کو ثواب مل جائے کہ وہ بڑھا کر لوٹائے تو وہ جو بڑھا کر لوٹا رہا ہوتا ہےاس میں سے بھی تو دعاؤں کا حصہ مل رہا ہوتا ہے۔کیونکہ مجھے تو سب سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔جتنی زیادہ دعاؤں سے آپ