خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 475
$2004 475 مسرور آج کل جب دجال کا دور دورہ ہے۔معاشرے میں ہر چیز ایک دوسرے میں خلط ملط ہو چکی ہے تو ہر احمدی کو یہ تینوں سورتیں ضرور پڑھ کر کے سونا چاہئے۔شیطان کے حملے کے بھی مختلف طریقے ہو چکے ہیں تو اس لحاظ سے جس حد تک بچا جا سکتا ہے بچنا چاہئے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بیمار ہوتے تو آخری دو سورتیں پڑھ کر ہاتھوں میں پھونک کر جسم پرپل لیتے۔جب آخری بیماری شدید ہوئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر آپ کے بدن پر مل دیتی تھی۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضل المعوذات) حضرت خلیفہ المسیح الاول نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ: اس سورۃ شریفہ کے شان نزول کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں۔( یعنی سورۃ الناس کے بارے میں ) کہ ان جیسی میں نے کبھی نہیں دیکھیں۔وہ مُعوذتین ہیں۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جن وانس کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے مگر جب مُعوذتین نازل ہوئیں تو آپ نے اور طرح اس امر سے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاظ میں دعا مانگتے تھے۔پھر آگے حضرت عائشہ کی وہی حدیث Quote کی ہوئی ہے کہ رسول اللہ جب بیمار ہوا کرتے تو ان دوسورتوں کا دم کیا کرتے تھے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان۔9 جنوری 1912ء) اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی راہوں پر چلائے جو حقیقت میں اس کی طرف لے جانے والی را ہیں ہیں۔ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہو کر ہم اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔شیطان کے ہر وسوسے کو رد کرنے والے ہوں اور دل سے نکالنے والے بن جائیں اور یاد رکھیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے ہمیشہ اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے۔اس کے آگے جھکے رہیں۔شیطان کے ہر حملے سے اس کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتے رہیں۔تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ