خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 474

$2004 474 مسرور حضرت خلیفہ امسیح الاول فرماتے ہیں کہ : ” وسوسوں کا پیدا ہونا ضروری ہے۔پر جب تک انسان اس کے شر سے بچا ر ہے یعنی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان پر قائم نہ ہو، تب تک کوئی حرج نہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کی کہ میرے دل میں برے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں، کیا میں ان کے سبب سے گناہگار ہوں۔فرمایا فقط برے خیال کا اٹھنا اور گزر جا ناتم کو گناہگار نہیں کرتا۔یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے۔جیسا کہ بعض انسان جو شیطان کی طرح ہوتے ہیں لوگوں کے دلوں میں برے خیالات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، پس فقط ان کی بات سننے سے اور رد کر دینے سے کوئی گناہگار نہیں ہوسکتا۔ہاں وہ گناہگار ہوتا ہے جو ان کی بات کو مان لیتا اور اس پر عمل کر لیتا ہے۔(حقائق الفرقان جلد نمبر 4 صفحه580) تو بہت ساری ایسی باتیں زندگی میں ہیں، انسان کو پیش آتی ہیں جہاں شیطان ہر وقت وسو سے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کے علاوہ پھر مذہب کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں : پھر اور باتیں ہو جاتی ہیں: تو اگر شیطان کی باتیں مان لیں پھر تو گناہگار ہو گئے۔اگر انسان شیطان سے لڑتا رہے اور نیت ہو کہ میں نے اس کی بات نہیں ماننی تو اگر برے خیال آتے بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا، اگر عمل کریں تو جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک چراگاہ ہے، ایک رکھ ہے جس میں جانا منع ہے تو وہاں قدم رکھ لیا تو پھر نقصان اٹھا ئیں گے، پھر اللہ تعالیٰ جو چاہے سلوک کرے۔انسانی وسوسوں اور شیطانی حملوں سے بچنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی نصیحت فرمائی۔حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قرآن کی آخری تین سورتیں یعنی سورۃ اخلاص، فلق اور الناس رات کو سوتے وقت پڑھ کر سویا کرو۔ان جیسی کوئی چیز نہیں جس سے پناہ مانگی جائے۔(نسائی کتاب الاستعاذه ما جاء في سورتي المعوذتين)