خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 451
$2004 451 خطبات مسرور گا۔کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے اور رشتہ داروں سے حسن سلوک فرماتے ہیں اور غریبوں ناداروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اور معدوم ہو جانے والی نیکیوں کو زندہ کرنے والے ہیں، یعنی جو نیکیاں ختم ہوگئی ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرنے والے ہیں اور سچ بولنے کے نتیجہ میں پیش آنے والی مشکلات کے باوجود حق کے ہی معین و مددگار ہیں“۔یعنی سچی بات ہی کہتے ہیں اور مہمان نواز بھی ہیں“۔(بخارى بدء الوحى كيف كان بدء الوحى) تو ایک انسان میں جو خصوصیات ہونی چاہئیں خاص طور پر ایک مرد میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے جس سے پاک معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے وہ یہی ہے جن کا ذکر حضرت خدیجہ نے آپ کے خلق کے ضمن میں فرمایا کہ صلہ رحمی اور حسن سلوک ، رشتہ داروں کا خیال ،ان کی ضروریات کا خیال ، ان کی تکالیف کو دور کرنے کی کوشش۔اب صلہ رحمی بھی بڑا وسیع لفظ ہے اس میں بیوی کے رشتہ داروں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مرد کے اپنے رشتے داروں کے ہیں۔ان سے بھی صلہ رحمی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اپنوں سے۔اگر یہ عادت پیدا ہو جائے اور دونوں طرف سے صلہ رحمی کے یہ نمونے قائم ہو جائیں تو پھر کیا کبھی اس گھر میں تو نکار ہو سکتی ہے؟ کوئی لڑائی جھگڑا ہوسکتا ہے؟ کبھی نہیں۔کیونکہ اکثر جھگڑے ہی اس بات سے ہوتے ہیں کہ ذراسی بات ہوئی یا ماں باپ کی طرف سے کوئی رنجش پیدا ہوئی یا کسی کی ماں نے یا کسی کے باپ نے کوئی بات کہہ دی، اگر مذاق میں ہی کہہ دی اور کسی کو بری لگی تو فور انا راض ہو گیا کہ میں تمہاری ماں سے بات نہیں کروں گا، میں تمہارے باپ سے بات نہیں کروں گا۔میں تمہارے بھائی سے بات نہیں کروں گا پھر الزام تراشیاں کہ وہ یہ ہیں اور وہ ہیں تو یہ زودرنجیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ، یہی پھر بڑے جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس قدرا اپنی بیویوں کے رشتہ داروں سے اور ان کی سہیلیوں سے حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔بے شمار مثالوں میں سے ایک یہاں دیتا ہوں۔راوی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں