خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 450
$2004 450 خطبات مسرور دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو۔جو باہر بظاہر نیک نظر آتے ہیں ان میں بھی کئی خامیاں ہوتی ہیں ، جو بیویوں کے ساتھ یا گھر والوں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کر رہے اس لئے معاشرے کو بھی ایسے لوگوں پر غور کرنا چاہئے۔ظاہری چیز پہ نہ جائیں۔فرمایا کہ ” جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہوا اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدو کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصے سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مرگئی ہے۔اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ عَاشِرُوْ هُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ٤٠٣ - ٤٠٤ الحكم ٢٤ دسمبر ١٩٠٠ء) 66 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے میں خوبیاں تلاش کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو دوسرے میں عیب نظر آتا ہے یا اس کی کوئی اور ادانا پسند ہے تو کئی باتیں اس کی پسند بھی ہوں گی جو اچھی بھی لگیں گی۔تو وہ پسندیدہ باتیں جو ہیں ان کو مد نظر رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرتے ہوئے موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہئے تو یہ میاں بیوی دونوں کو نصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اگر اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں تو چھوٹی چھوٹی جو ہر وقت گھروں میں لڑائیاں ، چیخ چیخ ہوتی رہتی ہیں وہ نہ ہوں اور بچے بھی برباد نہ ہوں۔ذرا ذراسی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں کہ جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بھی بدتر۔(مسلم کتاب الرضاع باب الوصية بالنساء) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً پندرہ سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد حضرت خدیجہ نے پہلی وحی کے موقع پہ جو گواہی دی، جب وحی ہوئی اور آنحضرت ﷺ بہت پریشان تھے کہ کیا ہو گیا تو حضرت خدیجہ نے عرض کیا کہ بخدا اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے