خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 452

452 $2004 خطبات مسرور پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے یہ تو خدیجہ کی بہن حالہ آئی ہے۔اور آپ کا یہ دستور تھا کہ گھر میں کبھی کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خديجه) لیکن یہاں تھوڑی سی وضاحت بھی کر دوں اس کی تشریح میں۔بعض باتیں سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے وضاحت کرنی پڑ رہی ہے۔کیونکہ معاشرے میں عورتیں اور مرد زیادہ مکس اپ (Mixup) ہونے لگ گئے ہیں۔اس سے کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ عورتوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے اور بیویوں کی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھنے کی بھی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔خیال رکھنا بالکل اور چیز ہے اور بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ دوستانہ کر لینا بالکل اور چیز ہے۔اس سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ پھر بیوی تو ایک طرف رہ جاتی ہے اور سہیلی جو ہے وہ بیوی کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔مرد تو پھر اپنی دنیا بسا لیتا ہے لیکن وہ پہلی بیوی بیچاری روتی رہتی ہے۔اور یہ حرکت سراسر ظلم ہے اور اس قسم کی اجازت اسلام نے قطعا نہیں دی۔کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں شادی کرنے کی اجازت ہے یہاں ان معاشروں میں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ، اُس بیوی کا بھی خیال رکھیں جس نے ایک لمبا عرصہ تنگی ترشی میں آپ کے ساتھ گزارا ہے۔آج یہاں پہنچ کر اگر حالات ٹھیک ہو گئے ہیں تو اس کو دھتکار دیں، یہ کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ آپ کو کہا کہ اے اللہ کے رسول ! خدا نے آپ کو اس قدر اچھی اچھی بیویاں عطا فرمائی ہیں۔اب اس بڑھیا ( یعنی حضرت خدیجہ ) کا ذکر جانے بھی دیں۔تو آپ نے فرماتے تھے کہ نہیں نہیں۔خدیجہ اس وقت میری ساتھی بنی جب میں تنہا تھا۔وہ اس وقت میری سپر بنی جب میں بے یارو مددگار تھا۔وہ اپنے مال کے ساتھ مجھ پر فدا ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ