خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 433
خطبات مسرور 433 مومن کا تو ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے بغیر نہیں گزرسکتا۔$2004 پھر سفر میں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جو انسان کی طبیعت پر برا اثر ڈالتے ہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہی دیکھ لیا اس سے طبیعت پر ایک بوجھ پڑ جاتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ ہمیشہ خود بھی دعا کرتے تھے اور ہمیں بھی یہی حکم ہوا کہ جب بھی سفر پر ہود عائیں مانگتے رہو اور سفر سے واپس آؤ تو اللہ کا شکر ادا کرو۔تو بہ کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دو تا کہ ہمیشہ اس کا فضل شامل حال رہے۔حدیث میں آتا ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تین آدمی سفر پر جائیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کر لیں۔(سنن ابی داؤد - كتاب الجهاد باب فى القوم يسافرون يومرون) بعض لوگ گروپوں کی شکل میں نکلتے ہیں تو اپنا امیر مقرر کر لیں۔یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ امیر ضرور مقرر کیا جائے اور پھر جب آپ نے امیر مقرر کر لیا تو اس کو مشورہ تو ضرور دیں، مشورہ دینے کا آپ حق رکھتے ہیں لیکن اگر وہ شریعت کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہا تو اس کی ہر بات بھی ماننی پڑے گی۔اور بچوں میں یہ روح پیدا کرنے کے لئے کہ یہ اللہ کے رسول کا حکم ہے کہ سفروں میں امیر مقرر کرو، بچوں کے ساتھ جب سفر کریں تو باپ یا جو بھی اس خاندان کا بڑا ہو جس کو بھی آپ امیر بنائیں، بتائے کہ یہ امیر ہے اور اس کی بات ماننی ہے۔اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتایا ہے کہ سفروں میں امیر ہونا چاہئے۔تو جب آپ بچوں کو اس طرح ٹریننگ دیں گے تو بچوں کو بچپن سے ہی نظام جماعت سے اطاعت کی بھی عادت پیدا ہو جائے گی اور ایک سفر سفر میں ہی بچوں کو سبق مل جائے گا۔پھر ایک روایت ہے حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت یہ سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور وہاں دو رکعت نفل نماز پڑھتے۔(بخاری کتاب المغازى باب حديث كعب بن مالك