خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 434
$2004 434 مسرور تو جیسا کہ پہلے بھی میں نے بتایا ہے کہ آپ نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ سفر سے واپسی پر تو بہ کرتے ہوئے، اللہ کی تعریف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اس سے دعائیں مانگتے ہوئے گھروں میں داخل ہو جاؤ۔تو اس حدیث نے یہ نمونہ دیا کہ سفر سے واپس آکر دو نفل مسجد میں ادا کر تے تھے۔اب دیکھ لیں کیا ہوتا ہے۔ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے سکتا ہے، اپنا محاسبہ کر سکتا ہے کہ نفل تو علیحدہ رہے بہت سے ایسے ہیں کہ سفر سے واپس آ کر بچوں میں یا دوسرے گھر یلو معاملات میں یا اپنی مجلسوں میں اتنے کھو جاتے ہیں، دنیاوی معاملات میں اتنے زیادہ گم ہو جاتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آجکل کا سفر اُس زمانے کے سفر کے لحاظ سے بہت آرام دہ ہے، کوئی مقابلہ ہی نہیں اس زمانے کے سفر کے ساتھ ، لیکن پھر بھی جو فرض نماز میں ہیں وہ بھی قضا کر کے پڑھتے ہیں یا پڑھتے ہی نہیں اور تھکاوٹ کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔اگر ہر کوئی اپنا اپنا جائزہ لے تو آپ کو بڑی واضح تصویر سامنے آ جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں سب سستیاں دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کر یم ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔کیونکہ وہ تمہارے کھانے، پینے اور سونے میں روک بنتا ہے پس چاہئے کہ جب مسافر اپنا کام مکمل کرلے تو اپنے اہل کی طرف واپسی کے لئے جلدی کرے۔(مسلم کتاب الامارة باب السفر قطعة من العذاب واستحباب تعجيل المسافر الى اهله بعد قضاء مشغلة) آجکل بھی آپ دیکھ لیں کہ باوجود اس کے کہ سفر میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔جہازوں، کاروں، گاڑیوں وغیرہ کے ذریعے ہم ہزاروں سینکڑوں میل کا سفر گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود گھر سے بے گھر ہو کر ڈسٹرب (Disturb) ضرور ہوتے ہیں۔آدمی کی وہ روٹین (Routine) نہیں رہتی جو اپنے گھر میں ہوتی ہے کھانے کے اوقات میں یا اس کی پسند میں تبدیلی آجاتی ہے۔بعض مریضوں اور خوراک کے معاملے میں خاص مزاج رکھنے والے لوگوں کو تو