خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 432

$2004 432 خطبات مسرور اس کو سدھایا جاتا تھا تو سوار بھی کوئی سواری سیکھتا تھا۔جس کو سواری آتی تھی وہی ان سواریوں پر بیٹھ سکتا تھا۔ورنہ اناڑی سوار کو تو یہ سواریاں فوراً نیچے پھینک دیں۔تو آج کل بھی جو سواریاں ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ ایسی سواریاں بنائے اور پھر ان کے استعمال کی عقل بھی اللہ تعالیٰ نے دی اور یہ سہولت والی سواریاں پیدا فرما ئیں تو فرمایا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سواری پر بیٹھو اور پھر سفر میں بھی لوگوں کی باتیں اور آپس میں چغلیاں کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہو، اس سے بھلائی مانگو اور اس سے ڈرتے رہو اور سفر کے خیریت سے کٹ جانے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو۔یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سفر میں بھی ہماری حفاظت فرمائے۔ہر قسم کے حادثے سے ہم کو بچا کے رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو انسان ہر شر سے محفوظ رہتا ہے۔جتنا مرضی کسی کو زعم ہو کہ ہماری نئی گاڑی ہے، بڑی اعلی گاڑی ہے ، یا بڑی مضبوط گاڑی ہے اور اس پر ہم انحصار کر سکتے ہیں، بڑا اعتماد کر سکتے ہیں۔کبھی سواری پر اعتماد یا انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ایک پرزہ بھی ڈھیلا ہو جائے ، بعض دفعہ فیکٹری سے نکل کر آتی ہے تو پرزہ ڈھیلا ہوا ہوتا ہے یا چلانے والے کو ہلکا سا نیند کا جھونکا ہی آجائے یا دوسری سواری جو سڑک پر ہے اس کی کوئی غلطی ہو جائے تو کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔اس لئے مومن کا تو کوئی قدم بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں اٹھ سکتا۔کوئی لمحہ بھی اس کے فضل کے بغیر نہیں گزرسکتا۔پھر اگر گھر کے کچھ لوگ آئے ہیں یا اکیلا ہی آیا ہے تو اس سفر میں بھی یہ دعامانگتے رہنا چاہئے کہ اے خدا پیچھے بھی خیر رکھنا یا تمام گھر والے بھی اگر سفر میں ہوں تو مال و اسباب، سامان وغیرہ گھر میں ہوتا ہے تو اس لئے پیچھے کی خیر کی دعا مانگتے رہنا چاہئے۔یہاں تو ان ملکوں میں گھروں میں لکڑیوں کا استعمال بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ گھر والے کہیں گئے ہوئے ہیں اور بجلی کا شارٹ سرکٹ ہوا اور واپس آئے تو گھر راکھ کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔اس لئے ہمیشہ سفر میں بھی دعاؤں میں رہنا چاہئے۔