خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 415

$2004 415 خطبات مسرور نہیں ان کو جانے دو۔مگر ان سب سے بڑھ کر بد قسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلے کو شناخت کیا اور اس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن اس نے کچھ قدر نہ کی۔وہ لوگ جو یہاں آ کر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں سے جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلے کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے، وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی متقی اور پر ہیز گار ہوں مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہئے انہوں نے قدر نہیں کی۔میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تحمیل عملی کی ضرورت ہے۔پس تحمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے ( یعنی جو عمل ہے علم حاصل کئے بغیر بہت مشکل ہے ) اور جب تک یہاں آ کر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔پھر فرمایا’بار ہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلے کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے۔0 (ملفوظات جلد اول صفحه ١٢٥ ـ الحكم ١٧ ستمبر ١٩٠١ء) تو وہ باتیں کتابوں کی صورت میں بھی اکٹھی ہو رہی تھیں پھر ملفوظات کی صورت میں بھی اکٹھی ہو چکی ہیں، اس طرف توجہ دینی چاہئے اور یہ کتب ضرور پڑھنی چاہئیں۔اور انہیں کتب سے آپ کو دلائل میسر آ جاتے ہیں لوگوں کے اعتراضوں کے جواب دینے کے اور یہی آج کل طریقہ ہے آپ کی مجلسوں سے فیضیاب ہونے کا ، آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا۔کہ پہلے بھی میں کہتا رہا ہوں کہ آپ کی کتب پڑھنے کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔اور اس سے ہمیں مخالفین کے اعتراضوں کے جواب بھی ملیں گے اور قرآن کریم کے علوم کی بھی معرفت ہمیں حاصل ہوگی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی۔پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اسے معلوم ہوتا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل