خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 414
$2004 414 مسرور پھر ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوب چرو صحابہ نے عرض کی کہ حضور یہ ریاض الجنتہ (یعنی جنت کے باغ) کیا چیز ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مجالس علمی۔یعنی مجالس میں بیٹھ کر زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرو۔(الترغيب الترهـ تو اس کے لئے پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں اجتماعوں اور جلسوں کے وقت ، جب اجتماعات یا جلسوں پر آتے ہیں تو وہاں ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔اور صرف یہی مقصد ہونا چاہئے کہ ہم نے یہاں سے اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھانی ہے۔اور ان جلسوں کا جو مقصد ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اگر جلسوں پر آ کے پھر دنیا وی مجلسیں لگا کر بیٹھنا ہے اور ان سے پورا استفادہ نہیں کرنا تو پھر ان جلسوں پر آنے کا فائدہ کیا ہے؟ یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آج کل کے زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو بھی پڑھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور ان سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے یہ بھی قرآن کریم کی ایک تشریح و تفسیر ہے جو ہمیں آپ کی کتب سے ملتی ہے۔، فى مجالسة العلماء جلد نمبر ۱ صفحه ٧٦ ـ بحواله الطبراني الكبير) آپ فرماتے ہیں کہ : ” دین تو چاہتا ہے مصاحبت ہو پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر ر ہیں اور فائدہ اٹھائیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔یادرکھو! قبریں آواز میں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے۔جب موت کا وقت آ گیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔وہ لوگ جو اس سلسلے کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم