خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 416

$2004 416 خطبات مسرور طلب باقی ہیں۔بعض امور کو وہ ابتدائی نگاہ میں بالکل بے ہودہ سمجھتے تھے لیکن آخر وہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے۔اس لئے کس قد رضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے لئے ساتھ علم کو بڑھانے کے لئے ہر بات کی تکمیل کی جاوے۔تم نے بہت ہی بے ہودہ باتوں کو چھوڑ کر اس سلسلے کو قبول کیا ہے۔اگر تم اس کی بابت پور اعلم اور بصیرت حاصل نہیں کرو گے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو۔تمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہوگی۔ذرا ذراسی بات پر شکوک وشبہات پیدا ہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگا جانے کا خطرہ ہے۔دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں ،صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کردے انہوں نے حاصل کیا۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امران کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ١٤٢،١٤١ - الحكم ۱۷ جولائی ۱۹۰۲ء) ایک روایت میں حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم علم اس غرض سے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعہ دوسرے علماء کے مقابلے میں فخر کر سکو۔نہ اس لئے حاصل کرو کہ جہلا میں اپنی بڑائی اور اکثر دکھا سکو۔اور جھگڑے کی طرح ڈال سکو۔اور نہ اس علم کی بنا پر اپنی شہرت اور نام و نمود کے لئے مجلسیں جماؤ۔جو شخص ایسا کرے گا یا ایسا سوچے گا اس کے لئے آگ ہی آگ ہے یعنی اسے مصائب و بلیات ( بلائیں ) اور رسوائی کا سامنا کرنا ہوگا۔(سنن ابن ماجه المقدمه باب الانتفاع بالعلم) تو آج کل (عموماً مسلمانوں میں ) ہمارے جو علماء ہیں ان کا یہی حال ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھے رہتے ہیں۔ذراسی بات لے کے اپنی علمیت کا رعب ڈالنے کی زیادہ کوشش