خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 313

$2004 313 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں اس سے یہ مراد ہے کہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ کوکسی۔وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں آخر کار ذلیل ہوتے ہیں“۔(ذکر حبیب صفحہ ١٣٤) پھر آپ نے فرمایا وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گروں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔( یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۱۳) پھر فرماتے ہیں ”جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۸) فرمایا: ” ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا ، جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔دنیا سے بالکل کٹ ہی نہیں جانا چاہئے۔فرمایا کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشتیں۔اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ ان کی اندرونی حالت خراب ہوتی ہے اور وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا“۔(ملفوظات۔جلد دوم صفحه ٢٨٦٩٦/ جنوری ١٩٠٣ء) پس دنیا کی نعمتوں کی موجودگی میں ان سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت اور اس کے حضور جھکنا ہر وقت مد نظر رہنا چاہئے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان ست ہو جاویں۔اسلام کسی کوست نہیں بناتا۔اپنی تجارتوں اور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں مگر میں یہ نہیں پسند کرتا کہ خدا کے لئے ان کا کوئی وقت بھی خالی نہ ہو۔ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو اس وقت بھی