خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 314

$2004 314 خطبات مسرور مدنظر رکھیں تا کہ وہ تجارت بھی ان کی عبادت کا رنگ اختیار کرے۔نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ہر معاملے میں کوئی ہو دین کو مقدم کریں۔دنیا مقصود بالذات نہ ہو اصل مقصود دین ہو پھر دنیا کے کام بھی دین ہی کے ہوں گے۔صحابہ کرام کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔لڑائی اور تلوار کا وقت ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ محض اس کے تصور سے ہی انسان گھبرا اٹھتا ہے۔وہ وقت جبکہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے ، نمازوں کو نہیں چھوڑا۔دعاؤں سے کام لیا۔اب یہ بدقسمتی ہے یوں تو ہر طرح سے زور لگاتے ہیں بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں جلسے کرتے ہیں کہ مسلمان ترقی کریں مگر خدا سے ایسے غافل ہوتے ہیں کہ بھول کر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پھر اس حالت میں کیا امید ہوسکتی ہے کہ ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں یا پھر وہ سب کی سب دنیا ہی کے لئے ہوں یا درکھو جب تک لا اله الا اللہ دل و جگر میں سرایت نہ کرے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت نہ ہو کبھی ترقی نہ ہوگی“۔(ملفوظات جلد اول صفحه ٤١٠ الحكم ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء) فرمایا دنیا کے کام نہ تو کبھی کسی نے پورے کئے اور نہ کرے گا۔دنیا دار لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے اور کیوں جائیں گے کون سمجھا وے جب کہ خدا تعالیٰ نے سمجھایا ہو، دنیا کے کام کرنا گناہ نہیں۔مومن وہ ہے جو در حقیقت دین کو مقدم سمجھے اور جس طرح اس ناچیز اور پلید دنیا کی کامیابیوں کے لئے دن رات سوچتا یہاں تک کہ پلنگ پر لیٹے لیٹے فکر کرتا ہے اور اس کی ناکامی پر سخت رنج اٹھاتا ہے ایسا ہی دین کی غمخواری میں بھی مشغول رہے۔دنیا سے دل لگانا بڑا دھوکہ ہے موت کا ذرہ اعتبار نہیں“۔(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم مکتوب نمبر ۹ صفحه ۷۳،۷۲) اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلاتے ہوئے اپنی نعماء سے بھی نوازے اور دنیا کا کیڑا بننے سے بھی بچائے۔آمین