خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 312

312 $2004 خطبات مسرور بڑائی پیدا ہو گئی تھی بلکہ دنیا سے بے رغبتی کا اظہار تھا زہد تھا نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے پر تھی نہ کہ ان دنیاوی چیزوں کی طرف ایک دنیا دار کے لئے یہ اعلیٰ کپڑے ہوں گے لیکن ایک اللہ والے کے لئے خدا رسیدہ کے لئے کوئی چیز نہیں تھی۔حضرت وہب بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان اور حضرت ابودرداء کے درمیان بھائی چارہ کروایا، حضرت سلمان، حضرت ابودردار کو ملنے آئے تو دیکھا کہ ابودرداء کی بیوی نے پراگندہ حالت میں کام کاج کے کپڑے پہن رکھے ہیں اپنا حلیہ عجیب بنایا ہوا تھا۔سلمان نے پوچھا تمہاری یہ حالت کیوں ہے۔اس عورت نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابو درداء کو تو اس دنیا کی ضرورت ہی نہیں وہ تو دنیا سے بے نیاز ہے۔اسی اثناء میں ابو درداء بھی آگئے۔انہوں نے حضرت سلمان کے لئے کھانا تیار کروایا اور ان سے کہا کہ آپ کھا ئیں میں تو روزے سے ہوں۔سلمان نے کہا جب تک آپ نہیں کھائیں گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔چنانچہ انہوں نے روزہ کھول لیا ( نفلی روزہ رکھا ہوگا)۔اور جب رات ہوئی تو ابو درداء نماز کے لئے اٹھنے لگے۔سلمان نے ان کو کہا ابھی سوئے رہو چنانچہ وہ سو گئے۔کچھ دیر بعد وہ دوبارہ نماز کے لئے اٹھنے لگے تو سلمان نے انہیں کہا کہ ابھی سوئے رہیں۔پھر جب رات کا آخری حصہ آیا تو سلمان نے کہا کہ اب اٹھو۔چنانچہ دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔پھر سلمان نے کہا اے ابودرداء ! تمہارے پروردگار کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔پس ہر حقدار کو اس کا حق دو، اس کے بعد ابودرداء آنحضرت کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا حضور نے فرمایا سلمان نے ٹھیک کیا ہے“۔(بخارى كتاب الصوم باب من اقسم على اخيه ليفطر في التطوع زہد یہ نہیں ہے کہ دنیاوی حقوق بیوی بچوں کے جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں انکو انسان بھول جائے یا کام کاج کرنا چھوڑ دے۔دنیاوی کام کاج بھی ساتھ ہوں لیکن صرف مقصود یہ نہ ہو۔بلکہ ہر ایک کے حقوق ہیں وہ ادا کئے جائیں۔