خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 311

$2004 311 خطبات مسرور کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔یہاں تک کہ پتیاں کھانے کی وجہ سے ہمارے منہ میں چھالے پڑ گئے تھے اور کپڑے کی قلت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ ایک چادر مجھے ملی تو اس کے میں نے دو ٹکڑے کر دیئے۔آدھی سعد بن مالک نے پہن لی اور آدھی میں نے۔لیکن آج ہم ساتوں میں سے ہر شخص کسی نہ کسی علاقے کا گورنر ہے۔مگر اس بات سے خدا کی پناہ کہ میں اپنے آپ کو اس عہدے پہ ہونے کی وجہ سے بڑا جانوں اور اللہ کے نزدیک حقیر بنوں“۔(ترغیب و ترهيب بحواله مسلم ) یعنی یہ خوف تھا کہ مجھے اس عہدے کی کوئی بڑائی نہیں اصل تو اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔وہی میرے دل میں قائم رہے۔ہر شخص کو اپنی پہلی حالت کو بھول نہیں جانا چاہئے۔ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا چاہئے جن کو نیا نیا پیسہ آئے تو اپنے غریب رشتہ داروں کو بھلا بیٹھتے ہیں، ان کو کوئی سمجھتے ہی نہیں۔اپنے گھر کے دروازے ان پر بند کر دیتے ہیں۔ان سے نرمی سے بات کرنا بھی جرم سمجھتے ہیں۔ہمیشہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اپنے غریب رشتہ داروں کا بھی ہمیشہ خیال رکھا جائے ، ان کی بھی عزت کی جائے ان کا احترام کیا جائے اور اگر وہ گھر میں آتے ہیں تو اکرام ضیف کے تمام تقاضے ان کے ساتھ بھی پورے کئے جائیں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کتان کے دو باریک کپڑے پہن رکھے تھے اعلی قسم کا کپڑا تھا) ان میں سے ایک کپڑے سے ناک صاف کیا اور فرمایا واہ واہ! ابو ہریرہ ! کتان سے ناک صاف کرتا ہے۔اور آپ ہی کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا تھا کہ میں بھوک سے بیہوش ہو جاتا تھا اور اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور حضرت عائشہ کے حجرہ کے درمیان گھسیٹا جایا کرتا تھا اور لوگ میری گردن پر پیر بھی رکھ دیا کرتے تھے یہ سمجھ کر کہ عقل میں فتور آ گیا ہے حالانکہ یہ نشی کی حالت ہوتی تھی جو بھوک کی وجہ سے طاری ہو جاتی تھی“۔صلى الله (بخاری کتاب الاعتصام باب ماذكر النبي ع و حض على اتفاق اهل العلم یہ نہیں کہ آپ نے اس لئے تھوکا کہ آپ میں تکبر آ گیا تھا یا مال کی کثرت کی وجہ سے کوئی