خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 310

310 $2004 خطبات مسرور کل جائیداد اور سرمایہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ تھا اور یقین تھا اس کا آپ نے ہمیشہ اظہار فرمایا اور ہم سے بھی یہی توقع رکھی کہ ہمارے اندر بھی اللہ تعالیٰ کے لئے وہ اعتماد اور وہ ایمان پیدا ہو جائے۔حضرت عمر بن عوف بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تا کہ وہاں سے جزیہ کی رقم وصول کر لائیں۔چنانچہ وہ بحرین کے محاصل لائے۔( یعنی جو وہاں سے ٹیکس وغیرہ وصول ہوئے تھے ) تو انصار کو اس کا علم ہواوہ سویرے سویرے ہی فجر کی نماز میں پہنچ گئے۔جب آنحضرت نے نماز پڑھ لی اور آپ مقتدیوں کی طرف مڑے تو لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو آپ نے اپنے سامنے دیکھا۔آپ مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ہے کہ تم نے ابوعبیدہ کی آمد سے متعلق سن لیا ہے۔لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا تمہیں بشارت ہو اور اس خوش کن خبر کی امید رکھو۔خدا تعالیٰ کی قسم مجھے تمہارے فقر کا ڈر نہیں۔اب فقر و احتیاج کے دن گئے یعنی غربت اور ضرورت پوری نہ ہونے کا خوف نہیں ہے۔فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تو اس بات کا ہے کہ دنیا کے خزانے تمہارے لئے کھول دیئے جائیں گے جس طرح پہلے لوگوں پر کھولے گئے تھے۔تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے اور اس کی حرص کرنے لگو گے۔جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے حرص کی۔پس تم کو بھی یہ حرص دنیا ہلاک کر دے گی جس طرح کہ اس نے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔(بخارى كتاب الجزية والموادعة باب الجزية والموادعة مع اهل الذمة اللہ تعالیٰ ہمیں اس حرص سے بچائے اور ہلاک ہونے سے بچائے۔اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ایک روایت ہے خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عقبہ بن عدوان نے (جو بصرہ کے گورنر تھے ) تقریرفرمائی کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میں ساتواں شخص تھا اور چھ اور آدمی تھے اور کہتے ہیں کہ معاشی تنگی کا یہ حال تھا کہ بول کے درخت کی پتیوں