خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 294

294 $2004 خطبات مسرور بیٹھ جاؤں۔حضور فرمانے لگے کچھ مضائقہ نہیں کوئی حرج نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں میں صافے کو ہاتھ سے ہٹا کر بوریے پر بیٹھ گیا۔اور میں نے اپنا حال سنانا شروع کیا کہ میں شراب بہت پیتا ہوں، دیگر گناہ بھی کرتا ہوں، خدا رسول کا نام نہیں جانتا لیکن میں آپ کے سامنے اس وقت عیسائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ہیں ان کو چھوڑ نا مشکل معلوم ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا استغفار پڑھا کرو اور پنجگانہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا اور ایسی حالت میں اقرار کر کے کہ میں ا اور نماز ضرور پڑھا کروں گا آپ کی اجازت لے کر آ گیا ، وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔استغفار روایات حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرتبه ملك صلاح الدين صاحب ایم اے صفحه ٩٤،٩٣) آجکل ایک فیشن ہے چھری کانٹے سے کھانے کا وہ تو خیر کوئی حرج نہیں کھا لینا چاہئے لیکن اس فیشن میں کیونکہ یہاں کے لوگ بائیں ہاتھ سے کانٹا پکڑ کر کھاتے ہیں اس لیے بائیں ہاتھ سے کھایا جاتا ہے۔اس بارے میں بھی احمدیوں کو جو اسلامی تعلیم ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔رعب دجال میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں تو اس کا استعمال تو غلط نہیں۔میں حضرت اقدس مسیح موعود کا ایک ارشاد پڑھتا ہوں کی آپ نے چھری کانٹے سے کھانے پر فرمایا: ” شریعت اسلام نے چھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ور نہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لیے کیا کہ تا امت کو تکلیف نہ ہو۔جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے مگر بالکل اس کا پابند ہونا اور تکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا منع ہے۔کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تنتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُم “ سے مراد یہی ہے کہ التزاماً ان باتوں کو نہ کرے ورنہ بعض وقت ایک جائز ضرورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے جیسے کہ بعض اوقات کام کی کثرت ہوتی ہے اور بیٹھے لکھتے