خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 293

$2004 293 خطبات مسرور ہوئے تھے اور وہ اتنی چوڑی تھی کہ آپ کا نیچے کا جسم گھٹنوں تک زمین پر تھا مگر آپ نہایت بے تکلفی اور سادگی سے اس پر لیٹے ہوئے اٹھ بیٹھے۔میں بیان نہیں کر سکتا کہ ان واقعات کا دیکھ دیکھ کر میرے اور میاں اللہ دین صاحب کے دل پر کیا گزرا۔آنکھوں کے سامنے نبی کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ گزر گیا۔کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوریے پر آرام فرمارہے تھے ، اٹھے تو لوگوں نے دیکھا کہ پہلوئے مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں۔عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ کوئی گڈا بنوا کر حاضر کریں، ارشاد ہوا مجھے دنیا سے کیا غرض، مجھ کو دنیا سے اسقدر تعلق ہے جس قدر اس سوار کو جو تھوڑی دیر کے لیے راہ میں کسی سائے میں بیٹھ جاتا ہے۔پھر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں اللہ دین صاحب نے کہا تھا کہ یہاں کوئی دری بچھا دی جائے تو فرمایا نہیں سونے کی غرض سے تو نہیں لیٹا تھا کام میں آرام سے حرج ہوتا ہے اور یہ آرام کے دن نہیں ہیں۔(سیرت حضرت مسیح موعود - مصنفه حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه ۳۳۰) حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کر نیل الطاف علی خان صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیہ میں ملنا چاہتا ہوں۔کرنیل صاحب کوٹ پتلون پہنے، داڑھی مونچھ منڈوائے ہوئے تھے۔میں نے کہا تم اندر چلے جاؤ، باہر سے ہم کسی کو نہ آنے دیں گے۔پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، چنانچہ کرنیل صاحب اندر چلے گئے اور آدھ گھنٹے کے قریب حضرت صاحب کے پاس تخلیہ میں رہے۔کرنیل صاحب جب باہر آئے تو چشم پر آب تھے۔میں نے ان سے پوچھا آپ نے کیا باتیں کیں جو ایسی حالت ہمیض یعنی رور ہے تھے۔وہ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بوریے پر بیٹھے ہوئے تھے لیکن بوریے پر حضور کا گھٹنا ہی تھا اور باقی زمین پر بیٹھے تھے میں نے کہا حضور زمین پر بیٹھے ہیں اور حضور نے یہ سمجھا کہ غالباً میں ( یعنی کرنیل صاحب ) بوریے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔اس لیے حضور نے اپنا صافہ بوریے پر بچھا دیا اور فرمایا آپ یہاں بیٹھیں۔یہ حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے اور میں نے عرض کی کہ اگر چہ میں ولایت میں بپتسمہ لے چکا ہوں مگر اتنا بے ایمان نہیں ہوا کہ حضور کے صافے پر