خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 295
$2004 295 خطبات مسرور ہوتے ہیں تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ کھانا میز پر لگا دو اور اس پر کھا لیا کرتے ہیں اور صف پر بھی کھا لیتے ہیں نیچے بیٹھ کے۔چار پائی پر بھی کھا لیتے ہیں۔ایسی باتوں میں صرف گزارا کو مدنظر رکھنا چاہئے۔فرمایا کہ تشبیہ کے معنے اس حدیث میں یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لینا ورنہ ہمارے دین کی سادگی تو ایسی شے ہے کہ جس پر دیگر اقوام نے رشک کھایا ہے۔اور خواہش کی ہے کہ کاش ان کے مذہب میں ہوتی اور انگریزوں نے ان کی تعریف کی ہے اور اکثر اصول انہوں نے عرب سے لے کر استعمال کئے ہیں۔مگر اب رسم پرستی کی خاطر مجبور ہیں ترک نہیں کر سکتے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ٦٧٠ ـ البدر ٦ جنوری ۱۹۰۳ء) اب میں واقفین کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پڑھتا ہوں۔آج تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے حالات بہت بدل گئے ہیں اور واقفین زندگی کے لیے بھی جماعت وسائل کے لحاظ سے جس حد تک سہولتیں بہم پہنچا سکتی ہے پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن واقفین زندگی اور اب واقفین نو بھی بعض اس عمر کو پہنچ گئے ہیں اور جامعہ میں بھی ہیں کچھ اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں ان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ ہمیشہ پیش نظر رکھنے چاہئیں جو میں پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر کچھ کر کے دکھانے والے ہوں، علمیت کا زبانی دعوی کسی کام کا نہیں ہے۔ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں اور ہماری صحبت میں رہ کر یا کم از کم ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔تبلیغ کے سلسلے کے واسطے ایسے آدمیوں کے دوروں کی ضرورت ہے، مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں جو اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اشاعت اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہ میں سے کوئی شخص پہنچا ہو گا۔اگر اسی طرح 20 یا 30 آدمی متفرق مقامات کو چلے جاویں ) اب تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو