خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 292

$2004 292 خطبات مسرور صاحب کو پتہ ہے کہ اس کو اگر کھانا نہ ملا تو اعتراض کرے گا اور اگر مجھے نہ ملا تو کوئی فرق نہیں پڑتا میں کوئی ایسی بات نہیں کروں گا۔کیونکہ میر صاحب کا تعلق میرے سے زیادہ ہے۔پھر سادگی ، قناعت اور کسی پر بوجھ نہ بننے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو اس قدر تلقین فرماتے تھے کہ تکلیف گوارا کرتے رہتے تھے، کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے اور اپنا جو بھی کام ہو، محنت مزدوری کر کے کماتے تھے اور خود کھاتے تھے۔حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص رسی لے کر جنگل میں جاتا ہے اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا پیٹھ پر اٹھا کر بازار میں آتا ہے اور اسے بیچتا ہے اور اس طرح اپنا گزارا چلاتا ہے اور اپنی آبرو اور خود داری پر حرف نہیں آنے دیتا وہ بہت ہی معزز اور اس کا یہ طرز عمل لوگوں سے بھیک مانگنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔نہ معلوم وہ لوگ اس کے مانگنے پر اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔(بخاری کتاب الزكواة باب استعفاف عن المسالة) اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کیا نمونہ دکھاتے ہیں اور یہ نمونہ اپنے ماننے والوں سے بھی پسند کرتے تھے ،سادہ زندگی کا اور قناعت کا۔آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں وہ تمام تکلفات جو آجکل یورپ میں لوازم زندگی بنارکھے ہیں یعنی زندگی کے لیے لازمی ضروری سمجھے ہوئے ہیں۔ان سے ہماری مجلس پاک ہے۔رسم و عادت کے ہم پابند نہیں ہیں۔اس حد تک کہ ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے ترک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اندیشہ نہ ہو، باقی کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٤٤٨ البدر ۲۹/ اكتوبر و ۸ نومبر ۱۹۰۳) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ مباحثہ امرتسر کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امرتسر میں رہائش کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ چٹائی پر لیٹے