خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 291
$2004 291 مسرور اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت معہ اپنے خاص قریبیوں میں کس طرح قناعت کے اعلیٰ معیار پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔حضرت عمرو بن تغلب بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بہت سا مال اور قیدی آئے ، آپ نے ان اموال کو تقسیم فرمایا۔کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو کچھ نہ دیا۔آپ کو اطلاع ملی کہ جن لوگوں کو کچھ نہیں ملا بڑے افسردہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید حضور ان سے ناراض ہیں۔اس پر آپ تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بعض اوقات میں ایک آدمی کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا۔لیکن جس کو نہیں دیتا وہ اس آدمی سے زیادہ محبوب اور پیارا ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ میں کچھ لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں مال و دولت کی خواہش اور حرص ہوتی ہے۔اور بعض کے متعلق مجھے یہ بھروسہ اور اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی ، بے نیازی اور استغناء رکھا ہے۔اور عمرو بن تغلب بھی انہیں لوگوں میں شامل ہیں۔عمرو کہتے ہیں کہ آپ کی اس بات سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اعلیٰ درجہ کے سرخ اونٹ پا کر بھی مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی۔اس زمانے میں بھی ایک مثال ہمیں ملتی ہے، مثالیں تو کئی ہوں گی ، ایک مثال میرے سامنے ہے۔قادیان میں ایک دفعہ مہمان زیادہ آگئے ، حضرت میر محمد الحق صاحب دارالضیافت کے انچارج تھے۔کھانا نہیں بچا بلکہ کھانا پکانے والوں کے لئے بھی نہیں بچا تو ایک آدمی کا کھانا صرف رہ گیا۔اور دو باور چی ایسے تھے جنہوں نے کھانا نہیں کھایا تھا۔حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ فلاں کو دے دو۔اور دوسرے کو رہنے دو۔شیطان تو ہر جگہ موجود ہوتا ہے نا، فتنہ پیدا کرنے کے لیے۔ایک شخص تھا وہ دوسرے کے پاس گیا کہ دیکھو ایک آدمی کا کھانا تھا، میر صاحب نے اس کو دے دیا اور تمہیں نہیں دیا۔دوسرے میں بڑی فراست تھی شاید یہ حدیث بھی اس کے سامنے ہو۔اس نے کہا میر