خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 550
خطبات مس $2003 550 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوْا اللَّهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِيْنَ﴾ (التوبه: ۱۱۹) اس آیت کا ترجمہ ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔انبیاء دنیا میں بگڑی ہوئی مخلوق کو، جو مخلوق اپنے خدا سے پرے ہٹ جائے اور بگڑ جائے اُس مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو مبعوث فرماتا ہے تا کہ انہیں خدا تک پہنچا سکیں۔اور یہ سیدھا راستہ سچائی پر قائم ہوئے بغیر نہیں مل سکتا۔اسی لئے تمام انبیاء سچائی کی تعلیم دیتے رہے اور جرات سے حق پر قائم رہتے ہوئے ایک خدا کی طرف بلاتے رہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اب دین مکمل کرنے کا وقت آ گیا ہے، اب انسانی سوچ بلوغت تک پہنچ چکی ہے تو پیکر صدق وجود حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مبعوث فرمایا، جنہوں نے ہر معاملے میں بڑے سے بڑے معاملے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے معاملے تک ہمیں سچ پر قائم رہنے کی اور ہمیشہ اس پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مومنواب تم ایمان لے آئے ہو اس ایمان پر مزید یقین بڑھانا ہے تو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ہر وقت اس کا خوف تمہارے دل میں رہے اور ہمیشہ حق بات کی طرف بلانے والے حق دکھانے والے اور سچ بولنے والے اور کہنے والے بنو اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ ، بچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔اور اب دنیا میں آنحضرت مے سے بڑھ کر کوئی صادق نہیں جو اتنی گہرائی اور باریکی میں جا کر تمہیں حق ، سچ اور صدق کی تعلیم دے۔اس لئے اس نبی کے ساتھ چمٹ