خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 551
551 $2003 خطبات مسرور جاؤ اور اس تعلیم پر عمل کرو جو اس سچے نبی ﷺ نے خدا سے علم پا کر تمہیں دی ہے۔اور پھر ہم احمدیوں کی اور بھی زیادہ خوش قسمتی ہے اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں، اس کی جتنی بھی حمد کریں کم ہے، کہ اس نے ہمیں اس زمانے میں حضرت خاتم الانبیاء کے عاشق صادق اور آپ ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے کے امام مسیح اور مہدی علیہ السلام کے دعوے کو ماننے کی توفیق بھی دی۔جنہوں نے ہمیں اس حسین تعلیم کے باریک در باریک نکات کو مزید کھول کر دکھایا اور بتایا۔اور اس سچی تعلیم کو وضاحت کے ساتھ سمجھنے کی تفصیل سے نصائح فرما ئیں۔آپ نے وضاحت سے فرمایا کہ قرآن کریم میں جس طرح سچ اور راستی کے بارہ میں حکم ہے کسی اور کتاب میں نہیں۔آپ فرماتے ہیں: کہ جس قدر راستی کے التزام کے لئے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہر گز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔پھر اس بارہ میں آپ نے عیسائیوں کو چیلنج بھی کیا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر تم لوگ مجھے انجیل میں سے کھول کر بتا دو، سچائی کی اور صدق کی تعلیم جس طرح قرآن شریف میں ہے، تو میں تمہیں ایک بہت بڑی رقم انعام دوں گا۔پھر آپ نے فرمایا : قرآن شریف میں دروغ گوئی کو یعنی جھوٹ بولنے کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ زور یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنَ وَالْأَقْرَبِيْن۔یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھائیں۔(نورالقرآن نمبر ۲ صفحه ۱۷-۱۸ تو اب اس قدر تاکید کے بعد ہم پر کس قدر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم سچ کے خُلق کو اپنے اوپر لاگو کریں اور اسے اپنا ئیں۔اور ہمارا اوڑھنا بچھونا، ہر حالت میں، ہماری ہر بات جو ہمارے منہ سے نکلے وہ سچ ہو۔اب احادیث کی روشنی میں کچھ وضاحت کرتا ہوں۔