خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 527 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 527

527 $2003 خطبات مسرور جائے ، اگر خلفاء کے ارشادات ہیں اس بارہ میں ان سے رہنمائی کی جائے۔پھر اگر کہیں سے بھی اس مخصوص امر کے لئے رہنمائی نہ ملے تو دعا کرتے ہوئے اللہ کے حضور جھکتے ہوئے ،اس سے مدد مانگتے ہوئے کسی بات کا فیصلہ کیا جائے۔جو بھی مقدمہ قاضیوں کے سامنے پیش ہو ان کا فیصلہ کیا جائے۔اب تو تقریباً تمام معاملات میں اصولی قواعد مرتب ہیں، قاضیوں کو مل بھی جاتے ہیں۔فقہی مسائل یا مسئلے بھی چھپے ہوئے موجود ہیں تو ان کی روشنی میں تمام فیصلے ہونے چاہئیں۔حضرت عمر کا ایک خط جو انہوں نے ابو موسیٰ اشعری کو لکھا تھا۔حضرت سعید بن ابو بردہ نے امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کا ایک خط نکالا جو انہوں نے اپنے ایک والی حضرت ابوموسیٰ اشعری کو لکھا تھا۔یہ روایت ہے۔اس کا مضمون یہ تھا۔قضا ایک محکم اور پختہ دینی فریضہ ہے اور واجب الاتباع سنت ہے۔جب کوئی مقدمہ یا کیس آپ کے سامنے پیش ہو تو معاملے کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ صرف حق بات کہنا اور اس کے نفاذ کی کوشش نہ کرنا بے فائدہ ہے۔کیا بلحاظ مجلس، کیا بلحاظ توجہ اور کیا بلحاظ عدل و انصاف، سب لوگوں کے درمیان مساوات قائم رکھو۔سب سے ایک جیسا سلوک کرو تا کہ کوئی با اثر تم سے ظلم کروانے کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور کو تیرے ظلم و جور کا ڈراور اندیشہ نہ ہو۔اور ثبوت پیش کرنا مدعی کا فرض ہے۔اور قسم منکر مدعا علیہ پر آئے گی۔مسلمانوں کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ہاں ایسی صلح کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جس کی وجہ سے حرام حلال بن رہا ہو اور حلال حرام یعنی خلافت شریعت صلح جائز نہ ہوگی۔اگر تم کوئی فیصلہ کرو اور پھر غور وفکر کے بعد اللہ کی ہدایت سے دیکھو کہ فیصلے میں غلطی ہوگئی ہے۔صحیح فیصلہ اور طرح ہے تو اپنا کل کا فیصلہ واپس لینے اور اسے منسوخ کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ حق اور عدل ایک عظیم صداقت ہے اور حق اور سچ کو کوئی چیز باطل اور غلط نہیں بنا سکتی ہے۔اس لئے حق کی طرف لوٹ جانا اور حق کو تسلیم کر لینا باطل میں پھنسے رہنے اور غلط بات پر مصر رہنے سے کہیں بہتر ہے۔جو بات تیرے دل میں کھٹکے اور قرآن وسنت میں اس کے بارہ میں کوئی وضاحت نہ ہو تو اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو اور اس کی مثالیں تلاش کرو۔اس سے ملتی جلتی صورتوں پر غور کرو پھر اس پر قیاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کرو۔اور جو پہلو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ لگے اور حق اور سچ کے زیادہ مشابہ نظر آئے اسے اختیار کرو۔مدعی کو ثبوت پیش کرنے کے لئے مناسب تاریخ اور