خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 528
528 $2003 خطبات مسرور وقت دو تا کہ وہ اپنے دعوئی کے حق میں ثبوت اکٹھے کر سکے۔اگر مقررہ تاریخ پر وہ ثبوت اور بینہ پیش کر سکے فبہا ورنہ اس کے خلاف فیصلہ سنا دو۔یہ طریق اندھے پن کو دور کرنے والا ہے۔اور بے خبری کے اندھیرے کو روشن کرنے والا۔یعنی اس سے الجھا ہوا معاملہ سلجھ جائے گا اور ہر قسم کے عذر واعتراض کا موثر جواب ہوگا۔سب مسلمان برابر شاہد عادل ہیں۔ایک دوسرے کے حق میں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔اور ان گواہیوں کے مطابق فیصلہ ہوگا سوائے اس کے کہ کسی کو حد کی سزامل چکی ہو یا اس کی جھوٹی شہادت دینے کا تجربہ ہو چکا ہو۔یا قرابت کے دعوئی میں اس پر کوئی تہمت لگی ہو۔یا اس کا اصل رشتہ کسی اور شخص یا قوم سے ہو اور دعویٰ کسی اور کے رشتے دار ہونے کا کرے یعنی حسب و نسب کے دعوئی میں جھوٹا ہو۔ایسے خفیف الحرکت شخص کے سچا ہونے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔باقی سب مسلمان گواہ بننے کے اہل ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں کیونکہ کسی کے دل میں کیا ہے؟ اصل راز اور سچائی کیا ہے؟ اسے اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو خدا اس کو سزا دے گا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں پینات اور گواہیوں کے ذریعہ معاملات نبٹانے کا مکلف بنایا ہے۔یہ بھی یا درکھو کہ تنگ پڑنے سے بچو۔جلد گھبرا جانے اور لوگوں سے تکلیف اور دکھ محسوس کرنے اور فریقین مقدمہ سے تنفر اور اجنبی پن سے کبھی پیش نہ آؤ۔حق اور سچ معلوم کرنے کے مواقع میں اس طرز عمل سے بچنا او حق شناسی کی صحیح کوشش کرنا۔اللہ اس کا ضرور اجر دے گا اور ایسے شخص کو نیک شہرت بخشے گا۔جو شخص اللہ کی خاطر خلوص نیت اختیار کرے گا اللہ اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا اور جو شخص محض بناوٹ اور تصنع سے اپنے آپ کو اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی اس کا راز فاش کر دے گا اور اس کی رسوائی کے سامان پیدا کر دے گا۔(سنن دار قطنی ـ كتاب الاقضيه والاحكام اس کے علاوہ عہدیداران کے متعلق بعض عمومی باتیں بھی ہیں جن کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔اللہ کے فضل سے جماعت میں عموماً عہدے کی خواہش کا اظہار کوئی نہیں کرتا اور جب عہدہ مل جاتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں ادا بھی کر سکتا ہوں یا نہیں۔لیکن بعض سر پھرے بھی ہوتے ہیں۔خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے ضلع میں صحیح کام نہیں ہو رہا۔لکھنے والا لکھتا ہے گومیں جانتا ہوں کہ عہدے کی خواہش کرنا مناسب نہیں لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرے سپرد امارت یا فلاں عہدہ کر دیا جائے تو میں چھ مہینے یا سال میں اصلاح کر سکتا ہوں۔تبدیلیاں پیدا کر دوں گا۔تو بعض تو ایسے سر پھرے ہوتے ہیں جو کھل کر لکھ دیتے ہیں۔اور بعض بڑی ہوشیاری سے یہی مدعا بیان کر رہے