خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 526 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 526

526 $2003 خطبات مسرور میں بڑا ہوں اس لئے میرا مشورہ ہی اچھا ہو سکتا ہے اور چھوٹے کا مشورہ اچھا نہیں ہو سکتا۔اس کو بہر حال وقعت کی نظر سے دیکھنا چاہئے ، اس کو کوئی وزن دینا چاہئے۔پھر ہمارے ہاں قضا کا ایک نظام ہے، مقامی سطح پر بھی اور مرکزی سطح پر بھی ، جماعتوں میں بھی۔تو قضا کے معاملات بھی ایسے ہیں جن میں ہر قاضی کو خالی الذہن ہوکر ، دعا کر کے، پھر معاملہ کو شروع کرنا چاہئے۔کبھی کسی بھی فریق کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ قاضی نے دوسرے فریق کی بات زیادہ توجہ سے سن لی ہے۔یا فیصلے میں میرے نکات کو پوری طرح زیر غور نہیں لایا اور دوسرے کی طرف زیادہ توجہ رہی ہے۔گو جس کے خلاف فیصلہ ہو عموماً اس کو شکوہ تو ہوتا ہی ہے لیکن قاضی کا اپنا معاملہ پوری طرح صاف ہونا چاہئے۔حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی حاکم سوچ سمجھ کر پوری تحقیق کے بعد فیصلہ کرے۔اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔اور اگر باوجود کوشش کے اس سے غلط فیصلہ ہو گیا تو اسے ایک ثواب اپنی کوشش اور نیک نیتی کا بہر حال ملے گا۔(بخاری کتاب الاعتصام باب اجر الحاكم اذا اجتهد فاصاب او أخطأ) پھر حضرت معاذ بن جبل کے کچھ ساتھی جو حمص کے رہنے والے تھے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت معاذ کو یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا تو معاذ سے پوچھا کہ جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ نے عرض کیا کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا یعنی قرآن شریف کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ نے پوچھا اگر کتاب اللہ میں وضاحت نہ ملی تو پھر کیا کرو گے۔معاذ نے عرض کی اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔آپ نے فرمایا: نہ سنت میں کوئی ہدایت پاؤ نہ کتاب اللہ میں تو پھر کیا کرو گے۔تو معاذ نے عرض کی کہ اس صورت میں غور و فکر کر کے اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا اور اس میں کسی سستی اور غفلت سے کام نہیں لوں گا۔حضور نے یہ سن کر معاذ کے سینے پر شاباش دینے کے لئے ہاتھ مارکر فرمایا: الحمداللہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے قاصد کو یہ توفیق دی اور وہ صیح طریق کار سمجھا جواللہ کے رسول کو پسند ہے۔(ابودائود کتاب الاقضية - باب اجتهاد الرائ في القضاء) تو یہ ہے اصول فیصلہ کرنے کا کہ قرآن سے رہنمائی کی جائے ، پھر سنت سے رہنمائی کی