خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 502

502 $2003 خطبات مسرور لوگ ہیں جو اپنے منہ نہیں کہہ رہے بلکہ اپنے عمل سے کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو تو دلوں کا حال نہیں پتہ لگا لیکن نعوذ باللہ ہم آپ سے اوپر ہیں، ہمیں سب کے دلوں کا حال پتہ لگ گیا ہے۔اور یہ اپنے ساتھیوں کے عبرتناک انجام دیکھتے بھی ہیں لیکن پھر بھی بے حیائی اور ڈھٹائی کی انتہاء ہے، کوئی اثر نہیں ہوتا۔تو جیسا کہ میں نے شروع میں دعا کے بارہ میں کہا تھا، دعا ہی ہے جو ہمارا اوڑھنا ہو، ہمارا بچھونا ہو۔دعا ہی ہے جس پر ہمیں مکمل طور پر یقین ہونا چاہئے ، اس کے بغیر ہماری زندگی کچھ نہیں۔ربوہ سے بھی اور پاکستان سے مختلف جگہوں سے بھی بڑے جذباتی خط آتے ہیں کہ پتہ نہیں ہم خلافت سے براہ راست ، ان معنوں میں براہ راست که بغیر کسی واسطہ کے کیونکہ ایم ٹی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے براہ راست دیکھنے اور سننے کے سامان تو ہو گئے ہیں لیکن یہ سب کچھ یکطرفہ ہے کہ کب ہماری آزادی کے حالات پیدا ہوتے ہیں جب دونوں طرف سے ملنے کے سامان ہوں ، کب ہم آزادی سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کا اظہار بازار میں کھڑے ہو کر کر سکتے ہیں۔تاکہ لوگوں کو پتہ لگے کہ اصل محبت کرنے والے تو ہم لوگ ہیں۔کب قانون میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔تو میرا جواب تو یہی ہوتا ہے کہ ان کو جیسا کہ گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے ہمیشہ للہ تعالیٰ ہی ہمیں سنبھالتا رہا ہے، ہماری مشکلیں آسان کرتا رہا ہے ، آج بھی وہی خدا ہے جو ان دکھوں کو دور کرے گا انشاء اللہ۔بظاہر ناممکن نظر آنے والی چیز ، ناممکن نظر آنے والی بات محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ممکن بن جایا کرتی ہے اور انشاء اللہ بن جائے گی۔بڑے بڑے فرعون آئے اور گزر گئے لیکن الہی جماعتیں ترقی کرتی ہی چلی گئیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ مضطر بن کر اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں۔اس لئے رمضان میں جس طرح دعاؤں کی توفیق ملی اس معیار کو قائم رکھیں گے تو کوئی چیز سامنے نہیں ٹھہر سکے گی۔بہت سے باہر سے ربوہ جانے والوں نے بتایا اور لکھا کہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عبادت کرنے والوں سے بھری پڑی تھیں اور یہی حال دنیا میں ہر جگہ تھا، یہاں بھی آپ نے دیکھا۔تو مسجدوں کی آبادی کا یہ انتظام اگر جاری رہے گا، اس میں ستی نہیں آئے گی۔اب اس میں صرف ربوہ ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں احمدی آبادیاں ہیں، اپنی مساجد کو آبا در رکھنے کی کوشش کریں گی اور ہماری مسجد میں تنگ پڑنی شروع ہو جائیں گی۔اتنی حاضری ہوگی کہ