خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 501

501 $2003 خطبات مسرور جیسا کہ فرمایا ایک اضطراب اور اضطرار ہونا چاہئے ، یہ یقین ہونا چاہئے کہ سب طاقتوں کا سر چشمہ صرف خدا کی ذات ہے۔اور زمینی حملے ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اگر ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ خدا ہے جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دعا پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیاوالا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں۔میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی بچے ایمان والا ہر گز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرما تا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۱۴ ايام الصلح صفحه ۲۵۹ ،۲۶۰ پھر آپ نے فرمایا: کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں، نہ سزا کے طور پر۔لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں ، وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں۔ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعا ئیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا“۔(روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ دافع البلاء صفحه (۲۳۱ تو اس وقت جماعت احمدیہ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعریف کے لحاظ سے مضطر ہیں۔بعض ملکوں میں جتنا نقصان جماعت کو یا جماعت کے افراد کو پہنچایا جاتا ہے، یعنی کھل کر اپنے مذہب کا اظہار نہیں کر سکتے۔ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں، ہم ایک خدا کو ماننے صلى الله والے ہیں، ہم حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے دین پر قائم ہیں۔مخالفین کہتے ہیں کہ نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو۔آنحضرت ﷺ کو تو کسی کے دل کے حال کا پتہ نہ چل سکا، معلوم نہ ہوسکا ان مولویوں کو ، ان حکومتوں کو دلوں کے حال پتہ لگنے لگ گئے۔تو ختم نبوت کا منکر کون ہو گیا ؟ پھر تو ختم نبوت کے منکر یہ