خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 503

503 $2003 خطبات مسرور ہر بچہ، ہر بوڑھا، ہر جو ان نمازوں کے دوران مسجد کی طرف جائے گا۔تو یہ کیفیت جب ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہماری دعاؤں کو بہت سنے گا۔اسی طرح گھروں میں بھی خواتین نمازوں اور عبادات کا خاص اہتمام کریں اور پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کس طرح مدد کو آتا ہے۔اسی طرح جب ہم سب مل کر دعائیں کریں گے، اللہ کے حضور جھکیں گے، عبادات بجالانے کی کوشش کریں گے تو اس کی مثال اس تیز بہاؤ والے پانی کی طرح ہی ہے جب پہاڑی راستوں سے گزرتا ہوا جہاں دریا کا پاٹ تنگ ہوتا ہے، یہ پانی گزر رہا ہوتا ہے تو اپنے راستے میں آنے والے پتھروں کو بھی کاٹ رہا ہوتا ہے اور انہیں بعض اوقات بہا بھی لے جاتا ہے۔اور بڑے بڑے شہتیروں کے بھی ٹکڑے کر رہا ہوتا ہے۔اس کی اتنی تیز رفتار ہوتی ہے کہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔تو جب مل کر سب دعا کریں گے۔اکٹھا کر کے جب دعائیں ہو رہی ہوں گی ساروں کی ، ایک طرف بہاؤ ہو رہا ہوگا تو اس دریا کے پانی کی طرح اس کے سامنے جو بھی چیز آئے گی خس و خاشاک کی طرح اڑ جائے گی۔لیکن شرط یہ ہے کہ مستقل مزاجی اور باقاعدگی سے اس طرف توجہ رہے۔رمضان گزر جانے کے بعد ہم ڈھیلے نہ پڑ جائیں ، ہماری مسجدیں ویران نہ نظر آنے لگیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑے بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پرواہ نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک کچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوء۔پھر فرمایا: (الحكم جلد ١٢ نمبر ١٦ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ٥) دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لئے دل میں درد ہو أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ - (الحكم جلد ه نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۱ ء صفحه نه (۱۳) تو جماعت کے لئے بھی آپ یہ درد پیدا کریں گے تو دعائیں بھی انشاء اللہ قبول ہوں گی۔