خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 487

487 $2003 خطبات مسرور بھیجا کرو۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مجيد“۔اور تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔راوی کہتے ہیں کہ اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب آپ کا وجود بوسیدہ ہو چکا ہوگا تو اس وقت ہمارا درود آپ کو کیسے پہنچایا جائے گا۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے وجودوں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب في الاستغفار ) پھر جمعہ کی اہمیت کے بارہ میں ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں۔وہ مسجد میں پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور اسی طرح وہ آنے والوں کی فہرست ترتیب وار تیار کرتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ جب امام خطبہ دے کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنا رجسٹر بند کر دیتے ہیں۔(صحیح مسلم كتاب الجمعة باب فضل التهجير يوم الجمعة) پھر ایک حدیث ہے علقمہ روایت کرتے ہیں کہ : حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور جمعوں میں آنے کے حساب سے بیٹھے ہوں گے یعنی پہلا ، دوسرا، تیسرا، پھر انہوں نے کہا چوتھا اور چوتھا بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیٹھنے کے لحاظ سے کوئی دُور نہیں“۔(ابن ماجه کتاب اقامة الصلواة باب ما جاء في التهجير الى الجمعة حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دن (جمعہ ) عید ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کے لئے بنایا ہے۔پس جو کوئی جمعہ پر آئے اُسے چاہئے کہ وہ غسل کرے اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبو لگائے اور مسواک کرنا اپنے لئے لازمی کرلو۔(سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة ) تو دیکھیں ان تمام احادیث سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ بخشش کے سامان کرنے ہیں تو جمعہ الوداع کافی ہے۔بلکہ ہر جمعہ ہی اہم ہے، لازمی ہے ، فرض ہے۔اور جن لوگوں کے خیال میں ایک دن کی نماز ہی پڑھ لو تو کافی ہے۔بعض لوگ جمعۃ الوداع پڑھنے والوں سے بھی دو قدم آگے ہوتے ہیں۔وہ جمعۃ الوداع پر بھی نہیں آتے صرف عید کی نماز پر آتے ہیں۔اللہ رحم کرے۔تو ان کے لئے یہ