خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 488
$2003 488 خطبات مسرور حدیث جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہ بتادیا کہ جمعہ کا دن بھی عید کا دن ہے۔یہ عید میں اکٹھی ہوں گی تو رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق بھی ملے گی۔اور پھر رمضان کے بعد آنے والی عید سے بھی فیض پاؤ گے اور گناہوں سے بچنے کا سامان پیدا کرو گے۔پھر جمعہ میں پہلے آنے کے بارہ میں اور امام کے قریب بیٹھنے کے بارہ میں حدیث ہے۔حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز جمعہ پڑھنے آیا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو اور ایک شخص جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے 66 حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے" (مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۱۰ مطبوعه بیروت) جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے سے مراد ہے کہ جمعہ اگر چھوڑو گے تو چھوڑتے چلے جاؤ گے۔اس میں بھی اصل چیز یہی ہے کہ جمعہ پر آنے کی تڑپ ہو، ایمان کی باتیں سننے کی اور ان پر عمل کرنے کی خواہش ہو۔اصل چیز وہی ہے کہ نیت کیا ہے ؟ بعض لوگ مساجد میں کچھ وقت گزارنے کے بعد جاتے ہیں کہ کچھ دیر کے بعد جائیں گے، آرام سے چلے جائیں گے۔امام صاحب بڑا لمبا خطبہ دے رہے ہیں۔بڑی دیر وہاں بیٹھنا پڑتا ہے، انتظار کرنا پڑتا ہے ، کون اتنی دیر بیٹھے۔آخری پانچ سات منٹ ہوں گے تو چلے جائیں گے۔دو چار منٹ کا خطبہ سن لیں گے، پھر نماز پڑھیں گے اور واپس آجائیں گے۔تو یہ سوچ بڑی خطرناک سوچ ہے۔کیونکہ پہلے جانے والے اور آخر میں جانے والے کے ثواب میں بھی اونٹ اور مرغی کے انڈے کے برابر یا بعض دفعہ چاول کے دانے کے برابر فرق ہے۔لیکن جو بھی امام ہوں ان کو بھی حالات کے مطابق موسم کے مطابق ، لوگوں کے وقت کے مطابق ، خطبے کے وقت کا خیال رکھنا چاہئے۔اب جمعہ کی اہمیت اور تربیت کے بارہ میں مزید احادیث پیش کرتا ہوں۔یہ کہ بغیر عذر کے کوئی جمعہ نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”جس نے متواتر تین جمعے جان بوجھ کر چھوڑ دئے ، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے“ (ترمذى كتاب الجمعة باب ماجاء في ترك الجمعة من غير عذر اور پھر آہستہ آہستہ بالکل ہی پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔بڑا سخت انذار ہے اس میں۔پھر ایک روایت ہے طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا