خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 454
$2003 454 خطبات مسرور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے گا کیسے ممکن ہے کہ اس کا خرچ کیا ہوا مال ضائع ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کا کم از کم سات سو گنا بدلہ ضرور ملتا ہے۔اس سے زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں۔اگر انتہائی حد مقرر کر دی جاتی تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو محدود ماننا پڑتا۔جو خدا تعالیٰ میں ایک نقص ہوتا۔اسی لئے فرمایا کہ تم خدا کی راہ میں ایک دانہ خرچ کرو گے تو کم از کم سات سو گنا بدلہ ملے گا۔اور زیادہ کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اُس کے انواع کی کوئی انتہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تو انجیل میں صرف اتنا فرمایا تھا کہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا اخراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں“۔(متی باب ٦ آیت ٢٠) لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے خزانے میں اپنا مال جمع کرو گے تو یہی نہیں کہ اسے کوئی پرائے گا نہیں بلکہ تمہیں کم از کم ایک کے بدلہ میں سات سو انعام ملیں گے۔اور اس سے زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں۔پھر مسیح کہتے ہیں وہاں غلہ کو کوئی کیر انہیں کھا سکتا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ صرف کیڑے سے ہی محفوظ نہیں رہتا بلکہ ایک سے سات سو گنا ہوکر واپس ملتا ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ کسی انسان کی مددکا محتاج نہیں مگر وہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اگر کسی کام کے کرنے کا انہیں موقع دیتا ہے تو اس لئے کہ وہ ان کے مدارج کو بلند کرنا چاہتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاقل فرماتے ہیں کہ: (تفسير كبير جلد دوم صفحه ٦٠٤-٦٠٥ خوب یا درکھو کہ انبیاء جو چندے مانگتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ انہی چندہ دینے والوں کو کچھ دلانے کے لئے۔اللہ کے حضور دلانے کی بہت سی راہیں ہیں ان میں سے یہ بھی ایک راہ ہے جس کا ذکر پہلے شروع سورة میں مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُوْنَ (بقرہ : ۴) سے کیا۔پھر آتی الْمَالَ عَلَى حُبّه (بقره: ۱۷۸) میں۔پھر اسی پارہ میں انْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ (بقرہ: ۲۵۵) سے۔مگر اب کھول کر مسئلہ انفاق فی سبیل اللہ بیان کیا جاتا ہے۔انجیل میں ایک فقرہ ہے کہ جو کوئی مانگے تو اسے دے۔مگر دیکھو قرآن مجید نے اس مضمون کو پانچ رکوع میں ختم کیا ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کسی کو کیوں دے؟ سو اس کا بیان فرماتا ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے۔خرچ کرنے والے کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جیسے کوئی بیج زمین میں ڈالتا ہے مثل باجرے کے پھر اُس میں