خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 455
خطبات مسرور کئی بالیاں لگتی ہیں۔455 $2003 پھر آپ فرماتے ہیں: ﴿ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ بعض مقام پر ایک کے بدلہ میں دس اور بعض میں ایک کے بدلہ میں سات سو کا ذکر ہے۔یہ ضرورت، اندازہ، وقت وموقع کے لحاظ سے فرق ہے۔مثلاً ایک شخص ہے دریا کے کنارے پر۔سردی کا موسم ہے۔بارش ہو رہی ہے۔ایسی حالت میں کسی کو گلاس بھر کر دے دے تو کونسی بڑی بات ہے لیکن اگر ایک شخص کسی کو جبکہ وہ جنگل میں دو پہر کے وقت تڑپ رہا ہے پیاس کی وجہ سے جاں بلب ہو، نحرقہ میں گرفتار، پانی دے دے تو وہ عظیم الشان نیکی ہے۔پس اس قسم کے فرق کے لحاظ سے اجروں میں فرق ہے۔پھر آپ ایک مثال بیان کرتے ہیں حضرت رابعہ بصری کی کہ ایک دفعہ گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں تو میں مہمان آگئے اور گھر میں صرف دور وٹیاں تھیں۔انہوں نے ملازمہ سے کہا کہ یہ دوروٹیاں بھی جا کر کسی کو دے آؤ۔ملازمہ بڑی پریشان اور اس نے خیال کیا کہ یہ نیک لوگ بھی عجیب بیوقوف ہوتے ہیں۔گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں اور جو تھوڑی بہت روٹی ہے یہ کہتی ہیں کہ غریبوں میں بانٹ آؤ۔تو تھوڑی دیر کے بعد باہر سے آواز آئی، ایک عورت آئی کسی امیر عورت نے بھیجا تھا، اٹھارہ روٹیاں لے کر آئی۔حضرت رابعہ بصری نے واپس کر دیں کہ یہ میری نہیں ہیں۔اس ملازمہ نے پھر کہا کہ آپ رکھ لیں، روٹی اللہ تعالیٰ نے بھیج دی ہے۔فرمایا نہیں یہ میری نہیں ہیں۔تھوڑی دیر بعد ہمسائی امیر عورت تھی اس کی آواز آئی کہ یہ تم کہاں چلی گئی ہو۔رابعہ بصری کے ہاں تو ہیں روٹیاں لے کر جانی تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے جو دو روٹیاں بھیجی تھیں اللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا کہ وہ دس گنا کر کے مجھے واپس بھیجے گا۔تو دو کے بدلہ میں میں آنی چاہئیں تھیں یہ اٹھارہ میری تھیں نہیں۔تو حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ یہ سچ ہے اور مجھے بھی اس کا تجربہ ہے اور میں نے کئی دفعہ آزمایا ہے۔لیکن ساتھ آپ یہ بھی فرمارہے ہیں کہ خدا کا امتحان نہ لو۔کیونکہ خدا کو تمہارے امتحانوں کی پرواہ نہیں ہے۔پھر کہتے ہیں کہ یہ تو سوال ہو گیا کہ کیوں دے۔اب بتا تا ہوں کہ کس طرح دے۔اول تو یہ کہ محض ابتغاء مرضات اللہ دے، احسان نہ جتائے۔پہلی بات یہ تھی کہ کیوں دے۔اس لئے دے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر دینا ضروری ہے۔پھر کس طرح دو۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کے لئے دونہ کہ احسان جتانے کے لئے۔