خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 453
453 $2003 خطبات مسرور پھر لکھتے ہیں کہ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللہ کہ وہ خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں میں سبیل اللہ ﷺ سے مراد دین ہے کہ خدا کے دین میں خرچ کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ : اگر تم دینی کاموں کے لئے اپنے اموال خرچ کرو گے تو جس طرح ایک دانہ سے اللہ تعالی سات سو دانے پیدا کر دیتا ہے اسی طرح وہ تمہارے اموال کو بھی بڑھائے گا۔بلکہ اس سے بھی زیادہ ترقی عطا فرمائے گا۔جس کی طرف ﴿ وَ اللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ میں اشارہ ہے۔چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا۔حضرت ابو بکر نے بے شک بڑی قربانیاں کی تھیں مگر خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کا پہلا خلیفہ بنا کر انہیں جس عظیم الشان انعام سے نوازا اُس کے مقابلہ میں اُن کی قربانیاں بھلا کیا حیثیت رکھتی تھیں۔اسی طرح حضرت عمر نے بہت کچھ دیا مگر انہوں نے کتنا بڑا انعام پایا۔حضرت عثمان نے بھی جو کچھ خرچ کیا اُس سے لاکھوں گنا زیادہ انہوں نے اسی دنیا میں پالیا۔اسی طرح ہم فردا فردا صحابہ کا حال دیکھتے ہیں۔تو وہاں بھی خدا تعالیٰ کا یہی سلوک نظر آتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کو ہی دیکھ لو۔لکھتے ہیں کہ ” جب وہ فوت ہوئے تو ان کے پاس تین کروڑ روپیہ جمع تھا۔اس کے علاوہ اپنی زندگی میں وہ لاکھوں روپیہ خرچ کرتے رہے۔اسی طرح صحابہ نے اپنے وطن کو چھوڑا تو ان کو بہتر وطن ملے۔بہن بھائی چھوڑے تو اُن کو بہتر بہن بھائی ملے۔اپنے ماں باپ کو چھوڑا۔تو ماں باپ سے بہتر محبت کرنے والے رسول کریم مل مل گئے۔غرض اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والا کبھی بھی جزائے نیک سے محروم نہیں رہا۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ٦٠٤ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارہ میں مزید لکھتے ہیں : وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِیم کہ کر بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام دینے میں بخل تو تب ہو جبکہ خدا تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی ہو۔مگر وہ تو بڑی وسعت والا اور بڑی فراخی والا ہے اور پھر وہ علیم بھی ہے۔جانتا ہے کہ وہ شخص کس قدر انعام کا مستحق ہے۔اگر کوئی شخص کروڑوں گنا انعام کا بھی مستحق ہو۔تو اللہ تعالیٰ اسے یہ انعام دینے کی قدرت رکھتا ہے۔دنیا میں ہم روزانہ یہ نظارہ دیکھتے ہیں که زمیندار زمین میں ایک دانہ ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے سات سو گنا بنا کر واپس دیتا ہے۔پھر جو شخص