خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 438
438 $2003 خطبات مسرور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔آپ صلى الله۔(صحیح بخاری کتاب مواقيت الصلوة نے فرمایا تم میں سے کسی کو فتنہ کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی ارشاد یاد ہے؟ تو کہتے ہیں میں نے کہا جیسا آنحضرت ﷺ نے فرمایا من و عن یاد ہے۔آپ نے ( یعنی حضرت عمر نے ) فرمایا کہ تم تو بات کرنے میں بڑے دلیر ہو۔بہر حال کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ آدمی کو جو فتنہ اس کے گھر بار، مال ، اولا دیا ہمسایوں سے پہنچتا ہے، نماز ، روزہ ، صدقہ ، اچھی بات کا حکم اور برائی سے روکنا اس فتنہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : یقیناً جنت میں بالا خانے ہوں گے جن کے اندرونے باہر سے اور خارجی حصے اندر سے نظر آتے ہوں گے۔اس پر ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ حضور یہ کن کے لئے ہوں گے۔فرمایا: یہ ان کے لئے ہوں گے جو خوش گفتار ہوں گے، ضرورتمندوں کو کھانا کھلانے والے ہوں گے، روزے کے پابند اور راتوں کو جب لوگ سوتے ہوں تو وہ نمازیں ادا کریں۔(سنن ترمذى كتاب صفة الجنة تو ان احادیث سے روزے کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ صرف بھوکا پیاسا نہیں رہنا بلکہ اس کے ساتھ تمام برائیوں کو بھی چھوڑنا ہے، نیکیوں کو اختیار کرنا ہے،غریبوں کا خیال رکھنا ہے، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے، نمازوں کی ادائیگی بھی کرنی ہے، فرض سے بڑھ کر نوافل پڑھنے کی طرف بھی توجہ کرنی ہے اور ان تمام چیزوں کے ساتھ روزے دار بھی ہو، تمام جائز چیزوں، خوراک وغیرہ کو ایک معینہ مدت کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر چھوڑنے والے ہو، تمام شرائع پورے کرنے والے ہو تو یہ تمہارے جو فتنے ہیں جن فتنوں میں تم پڑے ہوئے ہو اولا د کی طرف سے، کاروباری ہیں، ہمسایوں کے ہیں، لڑائی جھگڑے ہیں تو ان نیکیوں کی وجہ سے جو تم انجام دے رہے ہو گے ان سے تم بچ سکتے ہو اور یہ نیکیاں ہیں جو ان فتنوں کا کفارہ ہو جائیں گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ تو میرے لئے ہیں میں ہی ان کی جزا بن جاتا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کا