خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 437
437 $2003 خطبات مسرور انسان کو محروم رکھتے ہیں۔فرمایا مجھے یاد ہے کہ جوانی کے ایام میں میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کهہ روزہ رکھنا سنت اہل بیت ہے۔میرے حق میں پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا سلمانُ مِنَّا اہل البیت۔سلمان یعنی الصلحان کہ اس شخص کے ہاتھ سے دو صلح ہوں گی۔ایک اندرونی ، دوسری بیرونی۔اور یہ اپنا کام رفق سے کرے گا نہ کہ شمشیر سے اور میں جب مشرب حسین پر نہیں ہوں کہ جس نے جنگ کی بلکہ مشرب حسن پر ہوں جس نے جنگ نہ کی تو میں نے سمجھا کہ روزہ کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ میں نے چھ ماہ تک روزے رکھے۔اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ انوار کے ستونوں کے ستون آسمان پر جارہے ہیں۔یہ امر مشتبہ ہے کہ انوار کے ستون زمین سے آسمان پر جاتے تھے یا میرے قلب سے لیکن یہ سب کچھ جوانی میں ہو سکتا تھا۔اور اگر اس وقت میں چاہتا تو چار سال تک روزہ رکھ سکتا تھا۔تو یہاں خاص طور پر یہ جوانی کی مثال دے کر آپ جوانوں کو سمجھا رہے ہیں کہ بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے ایک عمر کے بعد روزے چھوڑنے پڑتے ہیں۔لیکن نوجوانی کی عمر ایسی ہے کہ اس میں روزے صحیح طور پر رکھے جا سکتے ہیں۔اور اس عمر کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔لیکن ایک اور مرتبہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہر کسی کو اتنا لمبا عرصہ روزے نہیں رکھنے چاہئیں، نہ وہ رکھ سکتا ہے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے کہا تھا اور ساتھ تائید تھی اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ نے قوت عطا کی تھی اس لئے میں رکھ سکا۔لیکن بہر حال رمضان کے روزے ایسے ہیں جن کو ضرور رکھنا چاہئے۔کیونکہ یہ ہر بالغ مسلمان پر فرض ہیں اگر بیماری وغیرہ کی کوئی وجہ نہ ہو۔روزے کی اہمیت اور اس کے نتیجہ میں انسان جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا ہے اس بارہ میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کا ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزے ہیں۔(جامع الصغير) پھر ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال ہے اور آگ سے بچانے والا ایک حصن حصین ہے۔(مسند احمد)۔یعنی ایک مضبوط قلعہ ہے جو آگ کے عذاب سے بچاتا ہے۔