خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 439

$2003 439 خطبات مسرور وصال ہو جاتا ہے روزوں کے ذریعہ اگر تمام شرائط کے ساتھ وہ رکھے ہوں۔یہ اس لئے ہے کہ میرا بندہ میرے لئے روزے میں اپنی جائز خواہشات اور اپنے کھانے پینے کو بھی ترک کر دیتا ہے۔فرمایا روزہ گناہوں کے خلاف ایک ڈھال ہے۔روزہ دار کے لئے دوخوشیاں مقدر ہیں۔ایک وہ خوشی جو اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ خدا کے فضل سے اپنے روزوں کو مکمل کر لیتا ہے۔یہ خوشی اسے دنیا میں ملتی ہے اور ایک وہ خوشی جو اسے آخرت میں ملے گی جب وہ اپنے رب سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے راضی ہوگا۔نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بو خدا کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے۔(بخارى كتاب التوحيد باب قول الله تعالى يريدون ان يبدلوا كلام الله ) پھر حضرت ابو مسعود غفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان کے شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری امت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔اس پر بنوخزاعہ کے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔چنانچہ آپ نے فرمایا یقیناً جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزین کیا جاتا ہے اور جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش الہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کو روزے دار کے منہ کی بُو جو ہے، نہ کھانے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہو جاتی ہے،صرف اس لئے پسند ہے کہ میرے بندے نے میری خاطر اپنے اوپر یہ پابندی لگائی ہوئی ہے اور میری عبادت میں مشغول ہے تو خدا تعالیٰ ایسے روزہ داروں کی بہت قدر کرتا ہے۔اور ایسے لوگوں پر اپنی رحمتوں اور فضلوں کی ہوائیں چلاتا ہے۔اس دنیا میں بھی انہیں اپنی پناہ میں رکھتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اپنی جنتوں کا وارث بناتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس کو سمجھتے ہوئے جو روزے رکھنے کا حق ہے اس کے مطابق رمضان گزارنے کی کوشش کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو روزے میں ستی کر جاتے ہیں کہ صلوۃ کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔اس کے بعد روزے کی عبادت ہے۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بعض مسلمان کہلانے والے ایسے بھی ہیں جو کہ ان عبادات میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔