خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 436
436 $2003 خطبات مسرور اس لئے رمضان کہلایا میرے نزدیک یہ میچ نہیں ہے کیونکہ یہ عرب کے لئے خصوصیت نہیں ہوسکتی۔روحانی رمضان سے مراد روحانی ذوق شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمضان اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔(الحكم ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء ، ملفوظات جلد اول صفحه ۹۰۲) تو اس اقتباس میں آپ نے فرمایا کہ رمضان سورج کی تپش کو کہتے ہیں اور سورج کی تپش سے جو گرم ممالک ہیں ان کو علم ہے کہ کیا حال ہوتا ہے اور پھر اگر جبس بھی شامل ہو جائے اس میں تو اور بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔گرمی دانے وغیرہ نکل آتے ہیں اور جن بیچاروں کے پاس اس گرمی کے توڑ کے لئے ذرائع نہیں ہوتے ، سامان میسر نہیں ہوتے وہ اس حالت میں جسم میں جلن اور دانوں میں خلش و غیرہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ نا قابل برداشت ہو جاتا ہے۔اب تو خیر یہاں یورپی ممالک میں بھی گرمی اچھی خاصی ہونے لگی ہے اور ذرا سائے سے باہر نکلیں تو دھوپ کی چھن حال خراب کر دیتی ہے تو یہ جو تکلیف ہو رہی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کھانے پینے کو چھوڑ کر ، جسمانی لذتوں کو چھوڑ کر، میری خاطر کچھ وقت تکلیف برداشت کرو یہ بھی اسی طرح کی تکلیف بعض اوقات ہو رہی ہوتی ہے۔اور فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ کی خاطر تکلیف برداشت کرتے ہو تو پھر تمہارے اندر سے بھی ایک جوش پیدا ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کی گرمی پیدا ہونی چاہئے۔اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور اس کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہو۔تو فرمایا کہ بیرونی تکلیف بھوک پیاس کی اور اندرونی جوش اللہ تعالیٰ کی محبت کی گرمی اکٹھی ہو جائیں تو اسی کا نام رمضان ہے۔پھر آپ نے فرمایا: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآن سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم بجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے ، دوری حاصل ہو جائے اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔فرمایا پس انزل فیہ القران میں یہی اشارہ ہے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض اس نعمت سے