خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 435

435 $2003 خطبات مسرور نیک کاموں میں حصہ لیں گے۔تو اس طرح ان کو بھی عادت پڑ جائے گی۔ایسے لوگوں میں سے کچھ لوگ پھر مستقل ان نیکیوں پر قائم بھی رہ جائیں گے۔اور شیطان کو دور رکھنے والے ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگوں پر میں اپنی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے کھولوں گا۔اللہ تعالیٰ ایسے بھٹکے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف آنے سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو خوشی ایک ماں کو ایک گمشدہ بچے کے ملنے سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ خوشی اپنے گمشدہ بندے کے ملنے سے ہوتی ہے۔واپس آنے سے ہوتی ہے ، عبادات بجالانے سے ہوتی ہے۔اور رمضان میں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ہر دروازہ کھول دیتا ہے۔قرآن جو خدا کی کتاب ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہے جس کے پڑھنے سے ہمیں خدا تعالیٰ کی معرفت عطا ہوتی ہے اس کو بھی رمضان سے ایک خاص نسبت ہے۔اس لئے رمضان میں اور عبادات کے ساتھ اس کو پڑھنے اور جہاں بھی درسوں کا انتظام ہو وہاں اس کے درس سننے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہوتو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم ( سہولت سے ) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اُس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: رمضان سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا