خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 376

376 $2003 خطبات مسرور سنت اللہ ہے تا کہ وہ اپنے مستقیم الحال بندوں کی استقامت لوگوں پر ظاہر کرے اور تا کہ صبر کرنے سے بڑے بڑے اجر بخشے۔خدا تعالیٰ ان تمام مصیبتوں سے مخلصی عنایت کر دے گا۔دشمن ذلیل و خوار ہوں گے جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ان کی ڈوبتی کشتی کو تھام لیا۔ایسا ہی اس جگہ ہوگا۔ان کی بددعائیں آخر ان پر پڑیں گی۔سو بارے الحمد للہ کہ حضور کی دعا سے ایسا ہی ہوا۔عاجز ہر حال میں استقامت وصبر میں بڑھتا گیا۔(اصحاب احمد جلد ٦ صفحه ١٢-١٣) حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا نمونہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتداء میں جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو حضور لیکچر دینے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ تشریف لے جا رہے تھے اور دیگر احباب بھی حضور کے ہمراہ تھے۔گلی سے گزرتے ہوئے کسی نے از راہ شرارت کو ٹھے پر سے راکھ کی ٹوکری پھینک دی۔حضور تو خدا کے فضل سے بچ گئے کیونکہ آپ گزر چکے تھے۔ٹوکری کی راکھ والد صاحب کے سر پر پڑی۔( یہ ان کے بیٹے بیان کر رہے ہیں )۔بس پھر کیا تھا بوڑھا آدمی ، سفید ریش ، لوگوں کے لئے تماشا بن گیا۔چونکہ آپ کو حضرت صاحب سے والہانہ اور عاشقانہ محبت تھی۔بس پھر کیا تھا اسی جگہ کھڑے ہو گئے اور ایک حالت وجد طاری ہوگئی اور نہایت بشاشت سے کہنا شروع کیا : ”پا مائیے پا، پا مایئے پا“۔یعنی مائی یہاں ڈالو یہاں۔فرماتے تھے شکر ہے خدا کا کہ حضرت صاحب کے طفیل یہ انعام حاصل ہوا۔اسی طرح ایک اور واقعہ ہے۔حضرت صاحب جب سیالکوٹ سے واپس آئے تو خدام آپ کو گاڑی پر چڑھانے کے بعد واپس گھروں کو جارہے تھے تو یہ کسی وجہ سے اکیلے پیچھے رہ گئے۔تو مخالفوں نے پکڑ لیا اور نہایت ذلت آمیز سلوک کیا۔یہاں تک کہ منہ میں گوبر ڈالا۔مگر والد صاحب اسی ذلت میں عزت اور اسی دکھ میں راحت محسوس کرتے تھے۔اور بار بار کہتے تھے ”بر ہانیا، ایہہ نعمتاں کیتھوں“۔یعنی اے برہان الدین ! یہ نعمتیں کہاں میسر آسکتی ہیں۔یعنی دین کی خاطر کب کوئی کسی کو دکھ دیتا ہے۔یہ تو خوش قسمتی ہے۔(ماہنامہ انصار الله ربوه ، ستمبر ۱۹۷۷ء صفحه ۱۴۔۱۵) حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے بارہ میں حضرت مولوی عبد المغنی