خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 377
$2003 377 خطبات مسرور صاحب ( یعنی آپ کے بیٹے تحریر فرماتے ہیں کہ : احمدیت قبول کرنے کے بعد مالی حالت کا یہ حال تھا کہ مہینوں اس ارزانی کے زمانہ میں ہم گھر والوں نے کبھی گھی کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ایندھن خریدنے کی بجائے شیشم کے خشک پتے جلایا کرتے تھے۔مگر خشک پتوں سے ہانڈی نہیں پکتی۔اس لئے پہلے دال کو گھر ہی میں بھون لیا کرتے تھے۔اس کے بعد اسے پیس لیتے تھے۔اب ہانڈی میں پانی ، نمک ، مرچ ڈال کر نیچے پتے جلانے شروع کرتے۔جب پانی جوش کھا تا تو وہ بھنی اور پسی ہوئی دال ڈال دیتے۔یہ ہماری ترکاری ہوتی جس سے روٹی کھاتے۔عام طور پر جوار، باجرہ اور گیہوں کی روٹی کبھی کبھار۔بجائے گھی کے تلوں کا تیل استعمال ہوتا تھا۔ساگ کی بجائے درختوں کی کونپلیں ساگ کے طور پر پکا کر کھاتے تھے۔لباس پرانے زمانہ کے زمینداروں کا تھا نہ کہ مولویوں کا۔کہتے ہیں کہ دراصل والد صاحب کو حضرت صاحب سے مل کر ایک عشق اور محبت ، شوق اور جوش پیدا ہو گیا تھا اور اس عشق و محبت اور وارفتگی کی وجہ سے آپ کو اپنے آرام و آسائش اور خوراک کی قطعا پرواہ نہ تھی۔بس ایک ہی دھن تھی کہ جو عشق کی آگ ان کے اندر تھی وہی عشق الہی ، محبت رسول اور حضرت صاحب کا عشق لوگوں کے دلوں میں لگا دوں۔اور بس ہر وقت یہی خیال ، یہی جذبہ، یہی عشق ، یہی غم اور یہی فکر کہ کس طرح احمدیت پھیل سکتی ہے۔کھانے کی نہ پینے کی نہ پہننے کی پرواہ۔جس طرح میں نے اور میری والدہ نے ان حالات میں وقت گزارا ہے وہ ا للہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔باوجود اس قدر تنگ دستی اور ناداری کے خود داری اور صبر اور استقلال کی ایک مضبوط چٹان تھے۔اور دین کے معاملہ میں ایسے غیور کہ کوئی لالچ اور کسی قسم کا دوستانہ اور رشتہ دارانه تعلق درمیان میں حائل نہیں ہوسکا، الحمد للہ ثم الحمد للہ۔اور ہماری بھی ایسے ماحول میں پرورش ہوئی کہ دنیا اور مافیہا ہماری نظروں میں بیچ۔اس استغناء کو دیکھ کر آخر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب مولوی صاحب کو تنخواہ دیتے ہیں۔(ماہنامہ انصار الله ربوه، ستمبر ۱۹۷۷ء صفحه ۱۱-۱۲) حضرت ام المومنین کا بے مثال صبر کا نمونہ جس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری لمحات کے وقت حضرت ام المومنین نے بجائے دنیا دار عورتوں کی طرح رونے بیچنے اور بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنے کے صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گر کے سجدہ