خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 375
$2003 375 خطبات مسرور ہے کہ کسی سنت کے پورا کرنے کا موقع عطا ہوا۔یہ تو خیر اس شخص کا عمل ہے جس کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے کہ کیا ہی اچھا ہوا گر قوم کا ہر فردنور دین بن جائے مگر یہ تو تب ہی ہوسکتا ہے جب ہر دل یقین کے نور سے پُر ہو۔پھر ایک مثال ہے مکرم حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”ہمارے ایک بھائی عزیزم چوہدری شکر اللہ خان صاحب مرحوم سے چھوٹے عزیزم چوہدری عبداللہ خان صاحب ( مرحوم) سے بڑے تھے جن کا نام حمید اللہ خان تھا۔وہ آٹھ نو سال کی عمر میں چند دن بیمار رہ کر فوت ہو گئے۔ان کی وفات فجر کے وقت ہوئی۔والد صاحب تمام رات ان کی تیمارداری میں مصروف رہے تھے۔ان کی وفات کے بعدان کی تجہیز وتکفین ، جنازہ اور دفن سے فارغ ہو کر عدالت کھلنے پر حسب دستور عدالت میں اپنے کام پر حاضر ہو گئے۔نہ موکلوں میں سے کسی کو احساس ہوا، اور نہ افسران عدالت یا آپ کے ہم پیشہ اصحاب میں سے کسی کو اطلاع ہوئی کہ آپ اپنے ایک لخت جگر کو سپردخاک کر کے اپنے مولا کی رضا پر راضی اور شاکر اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے حسب معمول کمر بستہ حاضر ہو گئے ہیں۔(اصحاب احمد جلد ۱ صفحه ۱۶۵-۱۶۲) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : ”اہلیہ اور تین بچوں کی وفات ادھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔آبروریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ عاجز راقم کسی قدر بلیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا اور یہ سب الہی آفات و مصائب کا ظہور ہوا جس کی حضور نے پہلے سے ہی مجمل طور پر خبر کر دی تھی۔اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از راہ نوازش تعزیت کے طور پر ایک تسلی دہندہ چٹھی بھیجی۔وہ بھی ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی جو پوری ہوئی اور ہو رہی ہے۔لکھا تھا کہ واقع میں آپ کو سخت ابتلا پیش آیا۔یہ