خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 316

$2003 316 خطبات مسرور ہر ایک قسم کی خدمت کے لئے تیار رہتا ہے۔وہ پاؤں دبا سکتا ہے۔پانی لاسکتا ہے۔کپڑے دھوسکتا ہے یہاں تک کہ اُس کو اگر نجاست پھینکنے کا موقعہ ملے تو اس میں بھی اُسے دریغ نہیں ہوتا لیکن امراء ایسے کاموں میں جنگ و عار سمجھتے ہیں اور اس طرح پر اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔غرض امارت بھی بہت سی نیکیوں کے حاصل کرنے سے روک دیتی ہے۔یہی وجہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ مساکین پانچ سو برس اول جنت میں جائیں گے۔“ فرماتے ہیں: 66 ( الحكم ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ ، ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٣٦٨ ) پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے۔جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے“۔فرمایا : یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں۔میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں“۔فرماتے ہیں:- غرض نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے۔دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ان پر ٹھٹھے کیسے جاتے ہیں۔ان کی خبر گیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔جولوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک