خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 315
$2003 315 خطبات مسرور فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔اور جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور عزت دیتا ہے اور کسی کے قصور معاف کر دینے سے کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه (۲۳۵ صلى الله پھر روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔تم اہل زمین پر رحم کرو۔آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔(ابوداؤد كتاب الادب باب فى الرحمة ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- اس بات کو بھی خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں۔اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نہ اس کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادات میں۔اور دوسرے نوع انسان سے ہمدردی کرو اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو۔آدم زاد ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ تم خود کرو۔جس قد رنرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدرتم سے خوش ہوگا۔اپنے دشمنوں کو تم خدا تعالیٰ کے حوالے کرو۔قیامت نزدیک ہے تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کو ان سے بہت دکھ اٹھانا پڑے گا کیونکہ جولوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہو جاتے ہیں ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتا ہے۔پس دیندار کو چاہئے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے۔“ (الحكم ٢٤ / جنوری ۱۹۰۷ ، ملفوظات جلد ٥ ـ صفحه ۱۳۰) پھر فرماتے ہیں: یا درکھو حقوق کی دو قسمیں ہیں۔ایک حق اللہ دوسرے حق العباد حق اللہ میں بھی امراء کو وقت پیش آتی ہے اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا بر امعلوم ہوتا ہے۔اُن کو اپنے پاس بٹھا نہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں۔اور وہ ان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ حق العباد میں خاص خاص خدمتوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔غریب آدمی تو