خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 317
$2003 317 خطبات مسرور کریں۔اور اس خدا داد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔“ (الحكم ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ء، ملفوظات جلد چهارم صفحه (۴۳۹ آپ فرماتے ہیں :- قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولاد اور دیگر اقارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں۔میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّ بِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتمى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا۔(سورة النساء: ۳۷) تم خدا کی پرستش کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھیر اؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے ) اور پھر فرمایا کہ تیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۸- ۲۰۹) حضرت خلیفتہ المسیح الا ول اس بارہ میں فرماتے ہیں: منشاء یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں کہ اِنا نَخَافُ مِنْ رَّبَّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيرًا (الدھر: ۱۱) کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطر میر ہے ڈرتے ہیں۔عبوستنگی کو کہتے ہیں تمطر نیز دراز یعنی لمبے کو۔یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہوگا اور لمبا ہوگا۔بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی نجات دے دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے ﴿فَوَقهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا ﴾ (الدھر : ۱۲ ) خدا تعالیٰ اس دن کے شر سے بچالیتا ہے اور یہ بچانا بھی سرور اور تازگی سے ہوتا ہے۔