خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 314
خطبات مسرور 314 $2003 پھر روایت آتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیا وی بے چینی اور تکلیف کو دور کیا۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی بے چینیوں اور تکلیفوں کو اس سے دور کرے گا۔اور جس شخص نے کسی تنگدست کو آرام پہنچایا اور اس کے لئے آسانی مہیا کی اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے لئے آسانیاں مہیا کرے گا۔جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد پر تیار رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد کے لئے تیار ہو۔جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھتے ہیں اور اس کے درس و تدریس میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر سکینت اور اطمینان نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو ڈھانپے رکھتی ہے، فرشتے ان کو گھیرے رکھتے ہیں۔اپنے مقربین میں اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتا رہتا ہے۔جو شخص عمل میں ست رہے اس کا نسب اور خاندان اس کو تیز نہیں بنا سکتا۔یعنی وہ خاندانی بل بوتے پر جنت میں نہیں جاسکے گا۔(مسلم کتاب الذكر باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر) تو اس میں شروع میں جو بیان کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگوں کے حقوق کا خیال اور یہ کہ تم اپنے بھائیوں کی بے چینیوں اور تکلیفوں کو دور کرو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی شفقت کا سلوک تم سے کرے گا اور تمہاری بے چینیوں اور تکلیفوں کو دور کرے گا۔آنحضرت ﷺ کا ہم پر یہ احسان ہے۔فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں ڈھانپ لے تو بے چین، تکلیف زدہ اور تنگدستوں کو جس حد تک تم آرام پہنچا سکتے ہو، آرام پہنچاؤ تو اللہ تعالیٰ تم سے شفقت کا سلوک کرے گا۔اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرو، ان کی غلطی کو پکڑ کر اس کا اعلان نہ کرتے پھرو۔پتہ نہیں تم میں کتنی کمزوریاں ہیں اور عیب ہیں جن کا حساب روز آخر دینا ہوگا۔تو اگر اس دنیا میں تم نے اپنے بھائیوں کی عیب پوشی کی ہوگی ، ان کی غلطیوں کو دیکھ کر اس کا چرچا کرنے کی بجائے اس کا ہمدرد بن کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ تم سے بھی پردہ پوشی کا سلوک کرے گا۔تو یہ حقوق العباد ہیں جن کو تم ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے۔پھر حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے